(لاہور نیوز) وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں ملکی برآمدات کے فروغ، توانائی، پنشن اور دیگر اہم اقتصادی معاملات سے متعلق متعدد فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے برآمدات بڑھانے کے لیے جامع برآمدی پیکیج کی منظوری دی، جس کے تحت تین خصوصی ایکسپورٹ فنانس سبسڈی سکیمیں متعارف کرائی جائیں گی۔
ان میں ایکسپورٹ فنانس سکیم، لانگ ٹرم ایکسپورٹ گروتھ فنانسنگ سہولت اور اضافی برآمدات پر کارکردگی سے مشروط ریبیٹ سکیم شامل ہیں، پیکیج میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو بھی خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے ان برآمدی سکیموں کی کارکردگی کا چھ ماہ بعد جائزہ لینے کے لیے رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ ان کے نتائج اور افادیت کا جائزہ لیا جا سکے۔
اجلاس میں آئی پی پیز سے متعلق عالمی ثالثی مقدمات کے لیے 4 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی جبکہ بند جنکوز کے پنشنرز کو متعلقہ ڈسکوز کے تحت منتقل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
اس کے علاوہ رحمان 8 ایس ٹی 3 کنویں کے پب ذخیرے کو ٹائٹ گیس ریزروائر قرار دینے، ای او بی آئی کے مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینوں اور آر ایل این جی پاور پلانٹس کے لیے مقامی گیس ٹیرف کی بھی منظوری دی گئی۔
خیال رہے اجلاس کے فیصلوں کا مقصد برآمدات میں اضافہ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو مزید مؤثر بنانا قرار دیا گیا۔
