(لاہور نیوز) پاکستان کے مایہ ناز لوک اور صوفی گلوکار الن فقیر کی آج 25 ویں برسی منائی جارہی ہے۔
سندھ کی دھرتی سے ابھرنے والی یہ آواز صرف ایک گلوکار کی نہیں بلکہ امن، محبت اور تصوف کی سچی پکار تھی، الن فقیر نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی صوفیانہ شاعری کو کائنات کے کونے کونے تک پہنچایا
الن فقیر کا اصل نام علی بخش تھا، ان کا سنِ پیدائش 1932ء بتایا جاتا ہے، الن فقیر کا تعلق سندھ کے علاقے مانجھند، ضلع دادو سے تھا، ان کے والد دھمالی فقیر مشہور ساز شہنائی بجانے کے حوالے سے معروف تھے، یوں الن فقیر لوک گیت اور موسیقی سے شروع ہی سے مانوس ہو گئے، وہ سریلی آوازیں سنتے، مقامی سازوں کو دیکھتے اور انھیں تھامنے اور بجانے کے فن کو سمجھتے ہوئے بڑے ہوئے تھے، اس ماحول نے ان کے اندر سوز و گداز پیدا کیا اور ایک وقت آیا کہ انھوں نے لوک فن کار کی حیثیت سے نام و مقام پیدا کیا۔
الن فقیر کو سندھی شاعری کی مشہور صنف وائی گانے میں مہارت حاصل تھی، مقامی سطح پر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے الن فقیر ریڈیو پاکستان اور اس کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور یوں انھیں ملک بھر میں شہرت حاصل ہوئی۔
وہ اپنی گائیکی کے مخصوص انداز کی وجہ سے ہر خاص و عام میں مقبول تھے، پرفارمنس کے دوران سندھ کے روایتی ملبوس کے ساتھ ان کا منفرد اور والہانہ انداز حاضرین و ناظرین کی توجہ حاصل کر لیتا تھا، گائیکی کے دوران الن فقیر کا مخصوص رقص، جھومنا اور مست و سرشاری کا عالم اپنی مثال آپ تھا۔
1987ء میں حکومتِ پاکستان نے الن فقیر کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی جب کہ 1999ء میں پاکستان ٹیلی ویژن نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ عطا کیا تھا، الن فقیر جامشورو میں آسودۂ خاک ہیں۔
