اپ ڈیٹس
  • 217.00 انڈے فی درجن
  • 298.00 زندہ مرغی
  • 432.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.02 قیمت فروخت : 41.09
  • یورو قیمت خرید: 318.60 قیمت فروخت : 319.18
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 366.76 قیمت فروخت : 367.42
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 194.78 قیمت فروخت : 195.13
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.04 قیمت فروخت : 196.39
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.72 قیمت فروخت : 1.72
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.11 قیمت فروخت : 74.24
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.74 قیمت فروخت : 75.88
  • کویتی دینار قیمت خرید: 904.55 قیمت فروخت : 906.18
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 430100 دس گرام : 368800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 394255 دس گرام : 338064
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6767 دس گرام : 5808
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

دوہرے قتل کیس کا فیصلہ: ایک ملزم کی سزا میں کمی ، دوسرے کی عمر قید برقرار

27 Jun 2026
27 Jun 2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے دوہرے قتل کیس میں ایک ملزم کی عمر قید برقرار رکھی، جبکہ دوسرے کو شک کا فائدہ دیکر سزا 15 سال قید میں تبدیل کردی۔

جسٹس طارق ندیم نے قرار دیا کہ قتل کے مقدمات میں الیکٹرانک شواہد کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور اگر ویڈیو یا دیگر الیکٹرانک شواہد فرانزک طور پر مستند ثابت ہو جائیں تو ان کی بنیاد پر سزا برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق ندیم نے ملزمان محمد اعظم اور اعظم نعیم کی اپیلوں پر فیصلہ جاری کیا۔ مقدمے کے مطابق ملزمان پر 2019 میں گھریلو تنازع کے دوران دو افراد کو قتل اور ایک خاتون کو زخمی کرنے کا الزام تھا۔ ٹرائل کورٹ نے محمد اعظم کو دو مرتبہ عمر قید جبکہ اعظم نعیم کو ایک مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

جسٹس محمد طارق ندیم نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قتل کے مقدمات میں الیکٹرانک شواہد کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور اگر ویڈیو یا دیگر الیکٹرانک شواہد فرانزک طور پر مستند ثابت ہو جائیں تو ان کی بنیاد پر سزا برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ فرانزک سے تصدیق شدہ ویڈیو کو انسانی گواہی پر فوقیت حاصل ہوتی ہے، تاہم زخمی گواہ کا بیان بھی ویڈیو اور میڈیکل شواہد سے مطابقت رکھنا ضروری ہے، صرف کسی شخص کا زخمی ہونا اس کے ہر بیان کو درست ثابت نہیں کرتا اور اگر عینی شہادت میڈیکل شواہد سے متصادم ہو تو اس بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ غیر مصدقہ تصاویر کو بطور ثبوت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ ویڈیو میں ملزمان کی شناخت تسلیم شدہ تھی، اس لیے فوٹو گرامیٹرک ٹیسٹ کرانا ضروری نہیں تھا، اسی طرح صرف اسلحہ کی برآمدگی کافی نہیں بلکہ اس کی فرانزک تصدیق بھی لازم ہے۔

عدالت نے محمد اعظم کے خلاف قتل کا الزام ثابت قرار دیتے ہوئے اس کی سزا برقرار رکھی، جبکہ اعظم نعیم کو قتل کے الزام میں شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ فوجداری قانون کا بنیادی اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہر صورت ملزم کو دیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں جزوی ترمیم کرتے ہوئے محمد اعظم کی اپیل جزوی طور پر مسترد جبکہ اعظم نعیم کی اپیل منظور کر لی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے