پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا 1 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کے کیسز نیب کو بھجوانے کا فیصلہ
(لاہور نیوز) پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کے اجلاس میں ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی مالی بے ضابطگیوں سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں،کمیٹی نے مالی سال 2021-22 کے چار بڑے آڈٹ پیراز تحقیقات کے لیے نیب کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان معاملات میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت منصوبوں کی منظوری میں تقریباً 41 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں، اقساط کی ادائیگیوں پر انکم ٹیکس کی عدم کٹوتی اور دیگر مالی امور شامل ہیں جن سے قومی خزانے کو ممکنہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ محکموں کو جوابدہی کا عمل مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
چیئرمین کمیٹی افتخار حسین چھچھر نے کہا کہ عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے احتسابی عمل کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے نیب کو ہدایت کی کہ وہ ان تمام معاملات کی تین ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ مالی نظم و ضبط کے قیام اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایسے اقدامات آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
