اپ ڈیٹس
  • 239.00 انڈے فی درجن
  • 318.00 زندہ مرغی
  • 461.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.18 قیمت فروخت : 41.25
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.35 قیمت فروخت : 278.85
  • یورو قیمت خرید: 323.88 قیمت فروخت : 324.46
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 374.65 قیمت فروخت : 375.33
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 199.38 قیمت فروخت : 199.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 201.06 قیمت فروخت : 201.42
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.74 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.17 قیمت فروخت : 74.31
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.79 قیمت فروخت : 75.93
  • کویتی دینار قیمت خرید: 907.71 قیمت فروخت : 909.34
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 473900 دس گرام : 406300
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 434405 دس گرام : 372439
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7853 دس گرام : 6740
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

سیلز ٹیکس چوری روکنے کیلئے ایف بی آر کا نیا نظام لانے کی تیاری

02 Jun 2026
02 Jun 2026

(لاہور نیوز) آئندہ مالی سال سے سیلز ٹیکس کی چوری اور مبینہ سمگلنگ کی روک تھام کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک جامع اور جدید نظام متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ نظام کے تحت ملک بھر میں سامان کی ترسیل صرف ایف بی آر کے رجسٹرڈ ٹرکوں کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گی، جبکہ غیر رجسٹرڈ کمرشل گاڑیوں کو موٹرویز، جی ٹی روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

منصوبے کے مطابق آئندہ مالی سال میں تمام کمرشل گاڑیوں پر خصوصی کارگو ٹریکنگ ٹیگز نصب کیے جائیں گے، جن کے ذریعے ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جائے گی، اس اقدام کا مقصد ٹیکس چوری اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام بتایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فیکٹریاں اور کارخانے صرف ایف بی آر سے رجسٹرڈ ٹرکوں میں ہی سامان لوڈ کر سکیں گے، جبکہ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی اور جرمانوں کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ نئے نظام کے تحت تمام کمرشل ٹرانسپورٹ کو ایف بی آر کے مرکزی ڈیٹا سسٹم سے منسلک کیا جائے گا، تاکہ ہر گاڑی اور اس کے ذریعے منتقل ہونے والے سامان کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہو۔

حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف مبینہ سیلز ٹیکس چوری میں تقریباً 200 ارب روپے تک کمی کا امکان ہے بلکہ سمگلنگ کی روک تھام اور کسٹمز ریونیو میں بہتری بھی متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ آئندہ مالی سال کے دوران مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے