اپ ڈیٹس
  • 239.00 انڈے فی درجن
  • 328.00 زندہ مرغی
  • 475.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • تولہ: 472800 دس گرام : 405400
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 433397 دس گرام : 371614
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7909 دس گرام : 6788
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے 72 ارب ونڈ فال منافع واپس لینے کی تیاریاں، کمیٹی قائم

26 May 2026
26 May 2026

(لاہور نیوز) آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے 72 ارب روپے ونڈ فال منافع واپس لینے کی تیاریاں، وزیراعظم نے آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاریوں کیلئے وزیر خزانہ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی۔

 

پٹرولیم ڈویژن کے تحت دی جانے والی کراس سبسڈی کے مالیاتی نظام کا جائزہ اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو حاصل ہونے والے تقریباً 72 ارب روپے کے ونڈ فال منافع کو واپس لینے کیلئے وزیراعظم نے وزیر خزانہ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی، یہ رقم واپس لے کر حکومت اسے عوامی ریلیف اور مالیاتی توازن کیلئے استعمال کر سکتی ہے۔

حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ سے قبل بڑے معاشی اور مالیاتی فیصلوں کی تیاری شروع کر دی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی ہے جو قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے، وزارتوں کی کارکردگی جانچنے، ترقیاتی اخراجات کا ازسرنو تعین کرنے اور توانائی شعبے میں مالی اصلاحات کیلئے سفارشات مرتب کرے گی۔

دستاویز کے مطابق یہ کمیٹی وزیراعظم کی ہدایات پر تشکیل دی گئی ہے اور اسے اہم معاشی معاملات کا جامع جائزہ لے کر وزیراعظم کو حتمی سفارشات پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، کمیٹی کی سربراہی وزیر خزانہ کریں گے، نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر خزانہ کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے جبکہ وزیر اقتصادی امور ڈویژن، وزیر منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات اور وزیر قانون کمیٹی کے ممبران مقرر کئے گئے ہیں۔

مشرف رسول کو چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر اور ایڈیشنل سیکرٹری بجٹ بطور رکن شامل کیا گیا ہے، کمیٹی کو مزید تکنیکی ماہرین یا متعلقہ حکام کو شریک کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، ذرائع کے مطابق کمیٹی کو غیرمعمولی اختیارات دیئے گئے ہیں اور اسے آئندہ بجٹ کی تشکیل، ترقیاتی فنڈز کی ترجیحات اور اخراجات میں کمی کیلئے کلیدی پلیٹ فارم تصور کیا جا رہا ہے، او ایم سیز کے 72 ارب روپے ونڈ فال منافع کی واپسی زیر غور ہے جس کیلئے وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی تجاویز تیار کرے گی۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی پٹرولیم ڈویژن کے تحت جاری کراس سبسڈی نظام کا جائزہ لے گی اور اس بات کا تعین کرے گی کہ او ایم سیز کو حاصل ہونے والے تقریباً 72 ارب روپے کے اضافی یا غیر معمولی منافع کو قانونی اور مالیاتی طریقے سے واپس لیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی تیل قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مقامی قیمتوں کے تعین کے دوران بعض کمپنیوں کو غیر معمولی مالی فوائد حاصل ہوئے تھے جنہیں اب حکومت عوامی مفاد میں واپس لینے پر غور کر رہی ہے۔

دستاویز کے مطابق یہ رقم واپس حاصل کرنے سے اسے پٹرولیم سبسڈی، بجلی نرخوں میں ریلیف یا مالی خسارہ کم کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، کمیٹی کو پاور ڈویژن سے متعلق بین الاقوامی عدالتوں اور ثالثی فورمز میں زیر سماعت مقدمات کا جائزہ لینے کی بھی ذمہ داری دی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق کمیٹی ان مقدمات سے وابستہ مالیاتی خطرات، حکومتی اخراجات اور ممکنہ نقصانات کا تجزیہ کرے گی جبکہ ایسے کیسز میں حکومتی وسائل خرچ کرنے کی سفارش کرے گی جہاں کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاور سیکٹر میں اربوں روپے کے ممکنہ جرمانوں اور مالی بوجھ سے بچنے کیلئے نئی حکمت عملی مرتب کرنا چاہتی ہے، دستاویز کے مطابق کمیٹی اہم اقتصادی وزارتوں اور ڈویژنز بشمول وزارت تجارت، پاور ڈویژن، نجکاری ڈویژن اور وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام کی مالی و انتظامی ضروریات کا جائزہ لے گی، اسی بنیاد پر آئندہ مالی سال کیلئے پی ایس ڈی پی فنڈز مختص کرنے کی سفارشات تیار کی جائیں گی۔

کمیٹی وزارتوں کی کارکردگی، قومی ترقی میں کردار اور حکومتی ترجیحات کی بنیاد پر ترقیاتی سکیموں کا جائزہ لے گی تاکہ غیرضروری منصوبوں پر اخراجات کم کیے جا سکیں، نوٹیفکیشن میں ایک اہم تجویز یہ بھی شامل ہے کہ ریونیو پیدا کرنے والی وزارتوں اور ڈویژنز کو اپنی آمدنی کا کچھ حصہ اپنے ترقیاتی اور جاری اخراجات کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر اس ایجنڈا کے تحت آمدن کا ایک فیصد خود خرچ کر سکے گا، اس مقصد کیلئے کمیٹی قانونی اور انتظامی طریقہ کار تجویز کرے گی، اس اقدام سے بعض اداروں کا انحصار وفاقی بجٹ پر کم ہو سکتا ہے۔

کمیٹی کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والے فنڈز کی تقسیم اور استعمال کا بھی جائزہ لے گی، رواں مالی سال کے اختتام تک 52 ارب روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اکٹھی ہونے کا امکان ہے جبکہ آئندہ مالی سال اس لیوی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام وزارتیں اور ڈویژنز مالی سال 26-2025 میں کابینہ کے رائٹ سائزنگ فیصلوں پر عملدرآمد کی پیشرفت رپورٹ پیش کریں گی۔

ذرائع کے مطابق حکومت مالی دباؤ، آئی ایم ایف اہداف، بڑھتے گردشی قرضے اور بجٹ خسارے کے باعث سخت مالیاتی نظم و ضبط کی طرف بڑھ رہی ہے، اگر او ایم سیز کے ونڈ فال منافع کی واپسی، پاور سیکٹر مقدمات کے بہتر تصفیے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات پر عملدرآمد ہوا تو حکومت کو اربوں روپے کی بچت حاصل ہو سکتی ہے، یہ کمیٹی آئندہ وفاقی بجٹ اور معاشی پالیسیوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے