(لاہور نیوز) لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے 17 سالہ لڑکی کی بازیابی سے متعلق درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل اہم فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ 15 سال سے زائد عمر کا بچہ اگر اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ رہ رہا ہو تو اسے زبردستی والدین یا کسی اور کی تحویل میں نہیں دیا جا سکتا، لڑکی کو فوری طور پر دارالامان سے رہا کر کے اس کی مرضی کی جگہ رہنے دیا جائے۔
درخواست لڑکی کے والد نے دائر کی تھی جنہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ بیٹی کو خالہ کی تحویل سے بازیاب کروایا جائے۔
دورانِ سماعت لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ والد کی دوسری شادی کے بعد سوتیلی ماں کے مبینہ تشدد کے باعث وہ خالہ کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، عدالت نے عبوری طور پر لڑکی کو دارالامان بھجوایا تھا۔
فیصلے میں عدالت نے پنجاب ویمن پروٹیکشن ایکٹ سمیت مختلف قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کسی بڑی عمر کے بچے کو اس کی مرضی کے خلاف والدین کے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مہذب معاشرے میں خوف، دباؤ یا خاندانی جبر کے ذریعے بچوں کی آزادی سلب کرنا قابلِ قبول نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آزادی ہر شہری کا بنیادی آئینی اور انسانی حق ہے، یہ والدین یا برادری کی عطا کردہ رعایت نہیں۔
عدالت کے مطابق بڑی عمر کے بچوں کی خودمختاری کا احترام قانونی اور اخلاقی تقاضا ہے، والدین کا کردار بچوں سے خوف کے ذریعے اطاعت کروانا نہیں بلکہ ان کی رہنمائی اور بہتر تربیت کرنا ہے جبکہ بچوں کی آزادی دبانے سے نفسیاتی مسائل اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ جنم لیتی ہے۔
