(لاہور نیوز) سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی زیر صدارت ٹریفک اور ریسکیو افسران کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ٹریفک حادثات، ان کی وجوہات اور ممکنہ حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر 1122 ڈاکٹر رضوان سمیت ڈویژنل افسران نے شرکت کی، سی ٹی او لاہور نے شہر میں ایکسڈنٹ ہاٹ سپاٹ ایریاز کی نشاندہی کرتے ہوئے مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کی، ریسکیو افسران کے مطابق اوور سپیڈنگ، ون وے کی خلاف ورزی اور لین لائن کی خلاف ورزی حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔
ڈویژنل افسران نے اجلاس کو بتایا کہ روڈ انجینئرنگ کے مسائل، بے جا روڈ کٹس اور سروس روڈز کی عدم موجودگی بھی حادثات میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
ریسکیو 1122 افسران نے ہیلمٹ کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہیڈ انجری کیسز میں واضح کمی آئی ہے۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے بتایا کہ رواں سال 113 افراد ٹریفک حادثات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ زیادہ تر حادثات میں موٹرسائیکل سوار شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال مہلک حادثات میں 12 فیصد کمی آئی ہے تاہم شاہراؤں کو سو فیصد محفوظ بنانے کیلئے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہزاروں قیمتی جانیں حادثات کی نذر ہو جاتی ہیں اور اموات کی شرح دیگر وجوہات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
اجلاس میں ایکسڈنٹ اینالسز یونٹ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جو ہر حادثے کی وجوہات اور ممکنہ حل کا جائزہ لے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ 80 فیصد حادثات ڈرائیورز کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث پیش آتے ہیں، انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائیں کیونکہ سڑک پر معمولی غلطی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔
