(ویب ڈیسک) حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی پر دی جانے والی غیر ہدفی سبسڈیز ختم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، جس کے بعد کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے بجلی بل بڑھنے کا امکان ہے۔
ذرائع وزارتِ توانائی کے مطابق مستقبل میں صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) میں رجسٹرڈ کم آمدن صارفین کو سبسڈی دی جائے گی، جبکہ دیگر تمام صارفین سے بجلی کی مکمل قیمت وصول کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین اور ایک سے زائد میٹرز کے ذریعے سستی بجلی لینے والے افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
نئے منصوبے کے تحت جنوری 2027 سے سبسڈی براہِ راست BISP کے ذریعے دی جائے گی، جبکہ بجلی بلوں میں اصل قیمت اور دی گئی سبسڈی کی تفصیل بھی درج ہو گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق صارفین کا ڈیٹا BISP رجسٹری سے منسلک کیا جا رہا ہے اور اگست تک نئے سبسڈی نظام کی آزمائش مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو توانائی اصلاحات اور ماحولیاتی اہداف پر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کرائی ہے، جبکہ ماحول دوست منصوبوں کیلئے 250 ملین ڈالر کے پانڈا بانڈ جاری کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
