اپ ڈیٹس
  • 246.00 انڈے فی درجن
  • 353.00 زندہ مرغی
  • 511.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.81 قیمت فروخت : 40.88
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.70 قیمت فروخت : 279.20
  • یورو قیمت خرید: 326.47 قیمت فروخت : 327.05
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 377.11 قیمت فروخت : 377.79
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 200.25 قیمت فروخت : 200.61
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 204.43 قیمت فروخت : 204.80
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.76
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.32 قیمت فروخت : 74.44
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.90 قیمت فروخت : 76.03
  • کویتی دینار قیمت خرید: 909.74 قیمت فروخت : 911.38
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 491500 دس گرام : 421400
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 450538 دس گرام : 386281
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7903 دس گرام : 6783
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟وجوہات سامنے آگئیں

27 Apr 2026
27 Apr 2026

(ویب ڈیسک) کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ صرف طلب و رسد کا نتیجہ نہیں بلکہ متعدد ساختی اور پالیسی مسائل کا مجموعہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیمنٹ کی قیمت میں ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا حصہ تقریباً 38 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مجموعی طور پر صارفین کی ادا کردہ قیمت کا قریب نصف مختلف ٹیکسوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عمومی مہنگائی میں کمی کے باوجود سیمنٹ مہنگا ہی رہا۔ چند برسوں میں 50 کلوگرام بوری کی قیمت 822 روپے سے بڑھ کر 1,091 روپے تک جا پہنچی ہے۔ دلچسپ طور پر پیداواری صلاحیت 45.6 ملین ٹن سے بڑھ کر 84.6 ملین ٹن ہوگئی، مگر اس کا استعمال کم ہو کر تقریباً 53 فیصد رہ گیا، جو کمزور طلب کی نشاندہی کرتا ہے، حالانکہ پاکستان میں فی کس سیمنٹ استعمال عالمی اوسط سے کم ہے اور ترقی کی گنجائش موجود ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سیمنٹ کا شعبہ گٹھ جوڑ (سینٹرالائزیشن) کے خطرے سے دوچار ہے کیونکہ مصنوعات ایک جیسی ہیں، نئے سرمایہ کاروں کے لیے داخلہ مشکل ہے اور چند بڑی کمپنیوں کا مارکیٹ پر زیادہ اثر و رسوخ ہے، خاص طور پر جنوبی علاقوں میں مسابقت مزید محدود ہے۔

کمیشن نے اصلاحات کے لیے جامع تجاویز بھی پیش کی ہیں، جن میں کوئلے کی درآمد میں اجارہ داری کا خاتمہ، ٹیکس پالیسی میں استحکام، توانائی قیمتوں کا حقیقت پسندانہ تعین، رائلٹی نظام میں یکسانیت، سمگلنگ اور جعلی مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی، اور نئے کارخانوں کے قیام کے ساتھ جدید ٹرانسپورٹ نظام شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تعمیراتی لاگت مزید بڑھے گی، رہائشی منصوبے سست پڑ جائیں گے اور صنعتی ترقی بھی متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ سیمنٹ کا شعبہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے