اپ ڈیٹس
  • 246.00 انڈے فی درجن
  • 373.00 زندہ مرغی
  • 540.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.77 قیمت فروخت : 40.84
  • یورو قیمت خرید: 325.58 قیمت فروخت : 326.16
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 375.26 قیمت فروخت : 375.94
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 198.55 قیمت فروخت : 198.91
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 203.38 قیمت فروخت : 203.74
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.74 قیمت فروخت : 1.75
  • کویتی دینار قیمت خرید: 909.31 قیمت فروخت : 910.94
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 493100 دس گرام : 422800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 452005 دس گرام : 387564
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7944 دس گرام : 6818
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

پاور ڈویژن کی 25 کلو واٹ تک سولر صارفین کیلئے فیس ختم کرنے کی سفارش

26 Apr 2026
26 Apr 2026

(لاہورنیوز) وفاقی وزیر توانائی کی ہدایت پر وزارت توانائی نے نیپرا سے 25 کلو واٹ تک سولر صارفین کیلئے فیس ختم کرنے اور لائسنس کی شرط ختم کرنے کیلئے باضابطہ نظرثانی کی درخواست کر دی۔

پاور ڈویژن کے مطابق 2015 کے پرانے ضوابط کے تحت 25 کلو واٹ یا اس سے کم صلاحیت کے سولر سسٹمز کیلئے نیپرا لائسنس درکار نہیں تھا، جبکہ درخواستیں تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے بغیر فیس پروسیس کی جاتی تھیں، تاہم نئے پروزیومر ریگولیشنز کے تحت چھوٹے سولر صارفین کیلئے بھی منظوری کا اختیار نیپرا کو دے دیا گیا اور درخواست فیس بھی عائد کر دی گئی۔

پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس تبدیلی سے گھریلو صارفین کیلئے غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں، جبکہ قابل تجدید توانائی کے فروغ کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ادارے کے مطابق پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے 25 کلو واٹ یا اس سے کم کے نظاموں کے لئے پرانا منظوری نظام برقرار رکھنے کی حمایت کی۔

عوامی سماعت کے دوران پاکستان سولر ایسوسی ایشن، پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں نے بھی ان تبدیلیوں پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ تقسیم کار کمپنیوں سے اختیار واپس لینا صارفین کیلئے مشکلات بڑھا رہا ہے۔

پاور ڈویژن نے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم کے نظاموں کیلئے پرانا طریقہ کار بحال کیا جائے تاکہ قابل تجدید توانائی کے فروغ میں رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔دوسری جانب گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی سولر کی ڈیمانڈ بڑھ گئی، مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دکانداروں کے مطابق درآمدی لاگت میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث سولر پینلز اور دیگر آلات مہنگے ہوگئے ہیں، جس کا براہ راست اثر عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے