اپ ڈیٹس
  • 238.00 انڈے فی درجن
  • 323.00 زندہ مرغی
  • 468.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • تولہ: 472800 دس گرام : 405400
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 433397 دس گرام : 371614
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7909 دس گرام : 6788
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تفریح

معروف ادیب قدرت اللہ شہاب کو دنیا سے رخصت ہوئے 37 برس بیت گئے

24 Jul 2023
24 Jul 2023

(ویب ڈیسک) زندگی کے تجربات اور خیالات کو الفاظ کا روپ دینے والے نامور ادیب قدرت اللہ شہاب کو دنیا سے رخصت ہوئے 37 برس بیت گئے، ان کی تحاریر آج بھی پڑھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔

دل کو چھولینے والا انداز تحریر رکھنے والے نامور ادیب قدرت اللہ شہاب 26 فروری 1917ء کو گلگت میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم انہوں نے ریاست جموں و کشمیر اور موضع چمکور صاحب ضلع انبالہ میں حاصل کی، 1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔

قدرت اللہ شہاب نے زندگی کے تجربات اور خیالات کو الفاظ کا روپ دیا تو شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے، انہوں نے عمدہ نثر نگار اور ادیب کے طور پر غیر معمولی شہرت پائی اور ان کی تحریریں قارئین کے ذہنوں پر نقش ہو جاتی ہیں، ان کی آپ بیتی شہاب نامہ اردو ادب میں مثالی مقام رکھتی ہے۔

پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی مساعی سے عمل میں آئی، قدرت اللہ شہاب کی دوسری تصانیف میں یاخدا، نفسانے، ماں جی اور سرخ فیتہ نمایاں ہیں، ان کی تحریریں آج بھی پڑھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔

قدرت اللہ شہاب قیام پاکستان کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے، گورنر جنرل پاکستان غلام محمد، سکندر مرزا اور صدر ایوب خان کے سیکرٹری کے طور پر بھی ذمہ داری نبھائی۔

ادب کے اس روشن چمکتے ستارے کو پاکستانی حکومت نے ستارہ قائداعظم اور ستارہ پاکستان سے بھی نوازا۔

قدرت اللہ شہاب 24 جولائی 1986 کو اسلام آباد میں وفات پا گئے اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے