برطانوی شہری سے نقدی ہتھیانے کا الزام، ایف آئی اے افسران کے خلاف انکوائری کا حکم
(لاہور نیوز) پنجاب میں ایف آئی اے افسران کے خلاف ایک اور سنگین الزام سامنے آ گیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پاکستانی نژاد برطانوی شہری سے دورانِ حراست مبینہ طور پر نقدی اور گاڑیاں ہتھیانے کے معاملے پر ایف آئی اے افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا، جسٹس جواد ظفر نے اکمل حسین کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ڈائریکٹر ایف آئی اے فیصل آباد ثاقب سلطان اور انسپکٹر اجمل حسین کے خلاف انکوائری رکوانے کی درخواست خارج کر دی۔
پاکستانی نژاد برطانوی شہری سلمان بابر کی جانب سے میاں دائود ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار اکمل حسین مبینہ طور پر ایک پراکسی ہے، جس کے ذریعے ایف آئی اے افسران کے خلاف جاری انکوائری رکوانے کی کوشش کی گئی۔
میاں دائود ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے افسران نے مبینہ طور پر 19 جون کو برطانوی شہری سلمان بابر اور اس کے بھائی کو طلب کیا اور رات گئے ان سے زبردستی 10 لاکھ روپے مخالفین کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کروائے۔
وکیل کے مطابق ایف آئی اے افسران نے مبینہ طور پر جعلی مقدمات کی دھمکیاں دے کر دو گاڑیاں بمعہ اصل کاغذات مخالفین کے حوالے کروائیں، جبکہ ایف آئی اے کے حق میں سٹامپ پیپر حاصل کرکے پراکسی درخواست گزار کے حق میں لین دین بھی درج کروایا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ متاثرہ برطانوی شہری نے اگلے روز 20 جون کو دستاویزات کی منسوخی کیلئے عدالت سے رجوع کیا، جبکہ 30 جون کو ایف آئی اے افسران کے خلاف جسٹس آف پیس سے بھی رجوع کیا گیا۔
وکیل کے مطابق جسٹس آف پیس سے رجوع کیے جانے کے بعد 11 جولائی کو برطانوی شہری اور اس کے بھائی کے خلاف ایک لاکھ 4 ہزار پاؤنڈ کے مبینہ ویزا فراڈ کا مقدمہ درج کیا گیا، میاں دائود ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا کہ مقدمے میں ایک انتہائی غریب شخص کو مدعی بنایا گیا، جو دورانِ انکوائری ایک لاکھ پاؤنڈ کی منی ٹریل یا اپنی مالی استطاعت ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان حالات کے پیش نظر جسٹس آف پیس فیصل آباد نے ایف آئی اے افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دیا، تاہم مبینہ طور پر اکمل حسین کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ سے انکوائری رکوانے کی کوشش کی گئی۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ایف آئی اے افسران کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ معاملے کی انکوائری ہونے دی جائے، عدالت نے جسٹس آف پیس کی جانب سے انکوائری کے حکم کو درست قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے افسران کے خلاف انکوائری رکوانے کی درخواست خارج کر دی۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایسے واقعات سے عوام کا اداروں پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
