اپ ڈیٹس
  • 255.00 انڈے فی درجن
  • 313.00 زندہ مرغی
  • 454.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.35 قیمت فروخت : 41.41
  • یورو قیمت خرید: 322.65 قیمت فروخت : 323.23
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 375.83 قیمت فروخت : 376.50
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 200.14 قیمت فروخت : 200.50
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 200.81 قیمت فروخت : 201.17
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.86 قیمت فروخت : 74.00
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان

20 Sep 2026
20 Sep 2026

(لاہور نیوز) وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت آج سے بجلی کی خریداری سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے، کسی کو حق نہیں ہوگا کہ حکومت کو بجلی بیچ سکے اور نہ حکومت خرید سکے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اویس احمد خان لغاری کا کہنا تھا کہ عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ترجیح ہے، آئندہ پانچ سال میں 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جائے گی، پہلے مرحلے میں 400 میگا واٹ نیلامی کیلئے پیش کئے جا رہے ہیں، کاروباری ادارے اور صنعتیں مسابقتی بنیادوں پر پاورپلانٹس سے بجلی خرید سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت ایک نظام کے تحت بجلی خرید کر عوام تک پہنچاتی ہے، بجلی کی خریداری کی شرائط سے متعلق عوام کے ہمیشہ سوالات رہے ہیں، آئی پی پیز کا نام آج بدنام ہو چکا ہے۔

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ حکومت آج سے بجلی کی خریداری سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے، کسی کو حق نہیں ہوگا کہ حکومت کو بجلی بیچ سکے اور نہ حکومت خرید سکے گی، ملک میں بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے آپس میں خود خرید و فروخت کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ بجلی کی خرید و فروخت کا نظام شفافیت پر مبنی ہوگا، اس نظام کا اطلاق سب سے پہلے صنعتی یا بڑے صارفین پر ہوگا، آنے والے سالوں میں بجلی کی ایک منڈی بنے گی، اس نظام کے تحت ایک عام صارف بھی اپنی مرضی سے بجلی خرید سکے گا، اب حکومت بجلی خرید کر زبردستی اپنے ریٹس پر عوام کو نہیں بیچ سکے گی۔

اویس لغاری کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں ایک میگاواٹ سے بڑے صارفین اس سے مستفید ہوں گے، سستی بجلی ملنے سے انڈسٹری عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھ پائے گی، ہماری صنعتیں عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات برآمد کر سکیں گی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے