اپ ڈیٹس
  • 242.00 انڈے فی درجن
  • 323.00 زندہ مرغی
  • 468.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.35 قیمت فروخت : 41.41
  • یورو قیمت خرید: 322.65 قیمت فروخت : 323.23
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 375.83 قیمت فروخت : 376.50
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 200.14 قیمت فروخت : 200.50
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 200.81 قیمت فروخت : 201.17
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.86 قیمت فروخت : 74.00
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
شہرکی خبریں

نئے صوبے کا فیصلہ کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، رانا ثنا اللہ

12 Sep 2026
12 Sep 2026

(لاہور نیوز) مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، حکومت اپنے طور پر ریفرنڈم کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ  نے کہا کہ پنجاب حکومت کا بلدیاتی انتخابات کرانے کا ارادہ ہے، صوبے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، نئے صوبوں کے حوالے سے بحث چل رہی ہے۔

رانا ثناء اللہ  نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ گورنر ہاؤس میں آج میٹنگ ہوئی، آزاد کشمیر انتخابات پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی تلخیوں پر بھی بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی بحث درست فورم سے شروع نہیں ہوئی تھی، نئے صوبوں کی بحث پارلیمنٹ میں ہی ہونی چاہئے تھی، معاملہ پارلیمنٹ میں آنے پر بہتر سمت میں آگے بڑھے گا، مناسب فورم پر بحث کے بعد مسلم لیگ ن رائے دے گی، وزیراعظم فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبے بننے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، عوام کی خواہش ہو تو نئے صوبے بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا، پارلیمنٹ میں ہونے والے فیصلے کو تمام جماعتیں تسلیم کریں گی، حکومت ریفرنڈم کا فیصلہ خود سے نہیں کر سکتی۔

رانا ثناء اللہ  نے کہا کہ جماعت اسلامی سیاسی جماعت ہے، اس کے دھرنے اور ریلیاں آئین و قانون کے مطابق ہوتی ہیں، جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات میں ان کے مطالبات غور سے سنے،  وزیراعظم  نے بجلی، لوڈشیڈنگ اور پٹرولیم قیمتوں میں کمی پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں  نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دوست خود کو مشقت میں ڈالنے سے گریز کریں، جماعت اسلامی کے امیدوار کا کہنا تھا اسلام آباد آئیں گے اور حکومت گرائیں گے، اگر حکومت گرانا مقصد ہے تو وہاں تشدد کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صوبے بنیں گے یا نہیں، یہ کہنا پارلیمنٹ کے فورم کو ڈکٹیٹ کرنا ہو گا، تمام آراء کے بعد حتمی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے