(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرور نہنگ نے کمسن بچی سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نامزد ملزم عون عباس کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف سنگین الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو جیل میں قید نہیں رکھا جا سکتا۔
عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ اوکاڑہ پولیس نے 2024 میں مقدمہ درج کیا تھا، جس میں اس پر 12 سالہ بچی کو مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا۔
ملزم نے ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسے مدعی کے بیان کی روشنی میں مقدمے میں نامزد کیا گیا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے کیس کے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ متاثرہ بچی کا میڈیکل معائنہ واقعے کے سات روز بعد کرایا گیا جب کہ میڈیکل رپورٹ میں تاریخ بھی مقرر نہیں کی گئی, عدالت نے واضح کیا کہ صرف میڈیکل معائنے میں تاخیر کی بنیاد پر مقدمہ ختم نہیں کیا جا رہا، تاہم معائنے میں تاخیر کے باعث کیس کے شواہد میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ ہی کرے گی اور موجودہ مرحلے پر عدالت صرف ضمانت کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے، عدالت نے ملزم عون عباس کی ضمانت 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد اسے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
