اپ ڈیٹس
  • 241.00 انڈے فی درجن
  • 328.00 زندہ مرغی
  • 475.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.26 قیمت فروخت : 41.34
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.45 قیمت فروخت : 277.95
  • یورو قیمت خرید: 324.02 قیمت فروخت : 324.60
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 378.56 قیمت فروخت : 379.25
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 198.12 قیمت فروخت : 198.47
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 201.17 قیمت فروخت : 201.53
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.90 قیمت فروخت : 74.03
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.55 قیمت فروخت : 75.68
  • کویتی دینار قیمت خرید: 904.63 قیمت فروخت : 906.26
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

PSV لائسنس کے بغیر بس چلانا غیر قانونی، حادثے میں ہلاکت پر دفعہ 322 لاگو ہوگی: لاہور ہائیکورٹ

29 Aug 2026
29 Aug 2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے ٹریفک حادثے کے ایک کیس میں بس ڈرائیور کی ضمانت خارج کرتے ہوئے اہم قانونی نکتہ طے کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے قرار دیا ہے کہ پبلک سروس وہیکل (PSV) لائسنس کے بغیر بس چلانا غیر قانونی ہے، جبکہ ایسے ڈرائیور کی غفلت اور تیز رفتاری کے باعث حادثے میں ہلاکت کی صورت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔

عدالت نے بس کی ٹکر سے چار نوجوانوں کی ہلاکت کے مقدمے میں ملزم ریاض حسین کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ملزم کے پاس ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل (HTV) لائسنس موجود تھا، تاہم اس کے پاس PSV لائسنس نہیں تھا۔ PSV لائسنس کے بغیر بس چلانا پنجاب موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کی صریح خلاف ورزی ہے۔

عدالت کے مطابق غیر قانونی طور پر گاڑی چلانے والا اپنی، مسافروں اور عوام کی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ ملزم کی ڈرائیونگ انتہائی تیز رفتار اور غفلت پر مبنی تھی، جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار چار نوجوان موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے نوجوانوں میں سے ایک کی اگلے روز شادی تھی۔

جسٹس تنویر احمد شیخ نے قرار دیا کہ دفعہ 322 کے تحت جرم قابلِ دست اندازی اور ناقابلِ ضمانت ہے۔ اگرچہ اس دفعہ کے تحت سزا دیت ہے، تاہم یہ ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتہائی غفلت پر مبنی ڈرائیونگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

فیصلے کے مطابق ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ریاض حسین کو ابتدائی ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا بلکہ بعد ازاں ضمنی بیان کے ذریعے اس کا نام شامل کیا گیا۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ بس مالکان کے بیانات کی روشنی میں ملزم کا نام تفتیش کے دوران سامنے آیا اور اسے جھوٹا پھنسانے کے لیے مدعی یا بس مالکان کی جانب سے بدنیتی کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ ایف آئی آر میں نام شامل نہ ہونے اور ضمنی بیان میں تاخیر کا فائدہ ملزم کو نہیں دیا جاسکتا۔ ہر مقدمے میں ضمانت کا فیصلہ مقدمے کے حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، جبکہ موجودہ مقدمے میں چار افراد کی ہلاکت کے معاملے میں ملزم کا ملوث ہونا بادی النظر میں خارج از امکان نہیں۔

ریاض حسین کے خلاف تھانہ صدر شجاع آباد میں 15 نومبر 2025 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ حادثے میں موٹر سائیکل سوار چاروں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے