لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات ناقص ، محکمہ صحت کا فوری اقدامات کا حکم
(لاہور نیوز) شہر کے پانچ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ایگزٹ ڈرلز کے انتظامات تسلی بخش نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ چلڈرن، میو، سروسز، جناح اور جنرل ہسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے۔
ذرائع کے مطابق بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ایگزٹ ڈرلز ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں، جبکہ متعدد مقامات پر فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہونے کے باوجود ان کی ورکنگ کنڈیشن بھی سوالیہ نشان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر ہسپتالوں میں فائر الارم، واٹر ہائیڈرنٹ اور اسپرنکلر سسٹم کی فعالیت بھی مشکوک ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی ایویکیوشن پلان، اسمبلی پوائنٹس اور ایمرجنسی کمانڈ سسٹم کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔
رواں سال بڑے سرکاری ہسپتالوں کا جامع فائر سیفٹی آڈٹ نہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جبکہ آئی سی یو، این آئی سی یو اور نرسری میں ڈیوٹی دینے والے عملے کی فائر سیفٹی ٹریننگ کے ریکارڈ پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ماضی میں سروسز ہسپتال میں آئی سی یو اور نرسری سمیت مختلف مقامات پر آتشزدگی کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جبکہ گنگا رام ہسپتال کی نرسری میں بھی آتشزدگی کا افسوسناک واقعہ پیش آ چکا ہے۔ گنگا رام ہسپتال کے نرسنگ اسٹاف کے فائر سیفٹی نالج پر 2024 میں تحقیقی سروے بھی کیا گیا تھا۔
اسلام آباد میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد پنجاب کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ میو ہسپتال میں 2024 میں ریسکیو 1122 کے تعاون سے فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ایگزٹ ڈرل کرائی گئی تھی۔
دوسری جانب محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اقدامات فوری یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔ تمام ہسپتالوں کو فائر ایکسٹنگوشرز اور واٹر ہائیڈرنٹس کی دستیابی، رسائی اور فنکشنل حالت یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت نے فائر ایکسٹنگوشرز کی باقاعدہ انسپکشن، مینٹیننس اور بروقت ری فلنگ کے ساتھ فائر الارم، ہائیڈرنٹس اور اسپرنکلر سسٹم کی عملی جانچ بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
ہسپتالوں میں بجلی کے منظور شدہ لوڈ کی دوبارہ جانچ اور بجلی کی لوڈ گنجائش کا تازہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ آئی سی یو، این آئی سی یو اور نرسری اسٹاف کی فائر سیفٹی ٹریننگ کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کے مطابق ہسپتالوں میں ریسکیو 1122 کے تعاون سے باقاعدہ فائر سیفٹی ٹریننگ کا آغاز کردیا گیا ہے۔ سروسز ہسپتال کی او پی ڈی میں آج فائر سیفٹی اور ایمرجنسی ایگزٹ ڈرل بھی کرائی گئی۔
خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں سموگ ڈیٹیکٹرز اور واٹر اسپرنکلر بھی لگائے جا رہے ہیں، جبکہ تمام سرکاری ہسپتالوں کو فائر سیفٹی اقدامات کی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق فائر ایمرجنسی کی صورت میں تمام ایگزٹ راستے ہر وقت کھلے رہنے چاہئیں۔ صرف کاغذی فائر سیفٹی کلیئرنس کافی نہیں، بلکہ گراؤنڈ پر فائر فائٹنگ آلات، ایگزٹ راستوں اور ایمرجنسی سسٹم کی عملی جانچ ضروری ہے۔
