اپ ڈیٹس
  • 236.00 انڈے فی درجن
  • 368.00 زندہ مرغی
  • 533.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.15 قیمت فروخت : 41.23
  • یورو قیمت خرید: 321.38 قیمت فروخت : 321.96
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 375.67 قیمت فروخت : 376.35
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 196.26 قیمت فروخت : 196.61
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.26 قیمت فروخت : 196.61
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.93 قیمت فروخت : 74.07
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.56 قیمت فروخت : 75.70
  • کویتی دینار قیمت خرید: 903.61 قیمت فروخت : 905.24
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

حکومت کا آئی ایم ایف کو منانے کیلیے کاشتکاروں پر انکم ٹیکس لگانے پر غور

19 Aug 2026
19 Aug 2026

(ویب ڈیسک)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو منانے کے لیے حکومت نے کاشت کاروں پر انکم ٹیکس لگانے پر غور شروع کردیا ہے۔

حکومت نے زرعی انکم ٹیکس کے معاملے پر آئی ایم ایف کو منانے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں، جبکہ صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے اہداف کے حوالے سے متبادل پلان کی تیاریاں بھی شروع کردی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کے حوالے سے گوشواروں کا 30 ستمبر تک انتظار کیا جائے گا۔ اگر صوبے 30 ستمبر تک زرعی انکم ٹیکس اور اس کے گوشواروں کا مطلوبہ ہدف حاصل نہ کرسکے تو متبادل پلان تیار کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں صوبوں کے ساتھ زرعی انکم ٹیکس کی فکس اسکیم پر مشاورت ہوسکتی ہے۔ زرعی شعبے کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لائی گئی تو فی ایکڑ 5 ہزار روپے تک انکم ٹیکس لانے پر غور ہوگا۔

ذرائع کے مطابق تاجر طبقے کی طرح کاشت کاروں اور زمینداروں کو بھی اکتوبر میں فکس اسکیم دی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں مسلسل تاخیر ہورہی ہے۔ معیشت میں زرعی شعبے کا حصہ 24.5 فیصد ہے، تاہم ٹیکس میں زرعی شعبے کا حصہ بہت کم اور محض 0.3 فیصد ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے