اپ ڈیٹس
  • 236.00 انڈے فی درجن
  • 368.00 زندہ مرغی
  • 533.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.15 قیمت فروخت : 41.23
  • یورو قیمت خرید: 321.38 قیمت فروخت : 321.96
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 375.67 قیمت فروخت : 376.35
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 196.26 قیمت فروخت : 196.61
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.26 قیمت فروخت : 196.61
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.93 قیمت فروخت : 74.07
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.56 قیمت فروخت : 75.70
  • کویتی دینار قیمت خرید: 903.61 قیمت فروخت : 905.24
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ

19 Aug 2026
19 Aug 2026

(لاہورنیوز) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ریٹیلر ایپ کا اجراء کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس سکیم کو آسان اور اختیاری بنایا گیا ہے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے نفاذ سے معیشت میں شفافیت آئے گی۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ بجٹ سکیم کو بہتر بنانے کے لیے مشاورتی عمل کو مؤثر بنایا جا رہا ہے، مختلف طبقات اور شعبوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے، کسی ایک طبقے کو نظرانداز کرکے ملک کا نظام نہیں چلایا جاسکتا، 25 سے 26 کروڑ آبادی کے ملک کو آسان اور بہتر نظام فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ عوام کے لیے نظام کو آسان اور مؤثر بنانا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس سکیم کو آسان اور اختیاری بنایا گیا ہے، چھوٹے دکاندار چاہیں تو اس سکیم کے بجائے معمول کے ٹیکس نظام میں رہ سکتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ دکانداروں کے لیے نئی سکیم میں چند اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں اور چھوٹے دکانداروں اور دیگر کاروباری طبقات کے درمیان واضح تفریق رکھی گئی ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ ٹیکس نظام میں ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلا جائے اور کسی طبقے کو یہ شکایت نہ ہو کہ اس پر دوسرے طبقات کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ نئی سکیم میں شامل ہوکر اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، جو لوگ سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے، ان کے خلاف آئندہ ضروری اقدامات کیے جائیں گے، حکومت کا مقصد ہر کاروباری طبقے کو قومی ٹیکس دائرے میں لانا اور ٹیکس نظام میں ہر طبقے کی شمولیت یقینی بنانا ہے، نئی سکیم کی کامیابی کے لیے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کا تعاون بھی ضروری ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ تاجر برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، تاجروں کی مشاورت اور رہنمائی سے نئی سکیم تیار کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری سے مشاورت کے بعد سکیم کو حتمی شکل دی گئی، جبکہ تاجروں کے لیے تیار کردہ سکیم کا آج باقاعدہ عملی آغاز ہوگیا ہے۔

بلال اظہر کیانی کے مطابق سکیم کا اعلان 5 جون کو وزیر خزانہ کی زیر صدارت تقریب میں کیا گیا تھا، جبکہ بجٹ پیش ہونے کے بعد اس کے عملی نفاذ کے لیے تیاریوں کا آغاز کیا گیا، نئی تاجر سکیم ان دکانداروں کے لیے بھی دستیاب ہے جو پہلے ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں تھے، سالانہ 20 کروڑ روپے تک فروخت کرنے والے دکاندار اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دکاندار ’آسان تاجر ایپ‘ کے ذریعے سادہ فارم پُر کرکے سکیم میں رجسٹریشن کراسکتے ہیں، جبکہ ایپ گوگل پلے سٹور سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے، رجسٹریشن کے دوران دکاندار کو پی ایس آئی ڈی جاری کیا جائے گا، جس کے ذریعے فیس کی ادائیگی کی جاسکے گی، فیس جمع کرانے کے بعد دکاندار کو ایک سال کے لیے سکیم میں شمولیت کی تصدیق فراہم کی جائے گی۔

بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ سکیم میں شامل دکانداروں کو مقررہ مراعات اور فوائد حاصل ہوں گے، جبکہ انہیں ایف بی آر افسران کی غیرضروری پوچھ گچھ سے بھی تحفظ فراہم کیا جائے گا، رجسٹرڈ دکاندار کو متعلقہ پلیٹ یا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا جائے گا۔

 

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ تاجروں میں خوف کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور کاروباری طبقے کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ تاجر اپنی آمدن کے مطابق ٹیکس ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم کاروباری طبقے کو بلاجواز چھاپوں، جرمانوں اور گرفتاریوں سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

راشد لنگڑیال کا کہنا تھا کہ بہتر کاروباری ماحول کے بغیر ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا مشکل ہوگا، ایف بی آر اور تاجر برادری مل کر ملک کو معاشی طور پر آگے لے جاسکتے ہیں، تاجروں پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے ساتھ ان کی کاروباری مشکلات کا بھی ازالہ ضروری ہے، حکومت اور تاجروں کے باہمی تعاون سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور ملکی معاشی نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے