(ویب ڈیسک) پاکستانی ٹیلی ویژن کی معروف میزبان اور اداکارہ جگن کاظم نے اپنے والد کے قتل اور بچپن کے تلخ تجربات پر پہلی بار تفصیل سے گفتگو کی۔
حال ہی میں جگن کاظم نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے والد سید عباس کاظم کے قتل اور والدہ کے ساتھ اپنے پیچیدہ تعلقات سمیت بچپن کے مشکل حالات پر کھل کر بات کی۔
ان کے والد سید عباس کاظم سرکاری ٹی وی کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور اکتوبر 2002ء میں انہیں قتل کر دیا گیا تھا، والد کی موت کا ذکر کرتے ہوئے جگن کاظم نے بتایا کہ میری زندگی کا سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب مجھے والد کے انتقال کی خبر ملی، میں اس وقت کینیڈا میں تھی اور نیویارک گئی ہوئی تھی۔
جگن نے بتایا کہ مجھے ایک نامعلوم نمبر سے فون آیا اور کہا گیا کہ آپ کے دادا انتقال کر گئے ہیں، مین اپنے والد کو دادا کہہ کر پکارتی تھی، اس وقت میری عمر 21 سال تھی۔
انہوں نے بتایا کہ والد کے ساتھ میرا تعلق ہمیشہ بہت پیچیدہ رہا، تاہم ان کی موت کی خبر نے مجھے شدید صدمہ پہنچایا، ابتداء میں مجھے یقین ہی نہیں آیا اور میں نے فون کرنے والے کو ڈانٹ کر کال منقطع کر دی، لیکن بعد میں دوبارہ رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ والد کا انتقال نہیں بلکہ قتل ہوا تھا۔
جگن کاظم کے مطابق وہ وقت میری زندگی کا بدترین اور سب سے تکلیف دہ دور تھا، اس دوران لوگوں کی حقیقت جاننے اور زندگی کے کئی تلخ پہلو دیکھنے کا موقع ملا۔
انہوں نے بتایا کہ والد نے مجھے زندگی کے بہت سے سبق سکھائے، میں اس بات کا افسوس بھی کرتی ہوں کہ والد بہت جلد دنیا سے چلے گئے اور انہیں اپنی بیٹی کی کامیابیاں دیکھنے اور ان پر فخر کرنے کا موقع نہیں ملا۔
جگن کاظم نے بتایا کہ جب مجھے صدارتی ایوارڈ ملا تو اس موقع پر مجھے اپنے والد بہت یاد آئی، میں نے دل ہی دل میں اپنے والد سے کہا کہ دادا! آپ سمجھتے تھے کہ میں کچھ نہیں کر سکتی۔
اداکارہ نے کہا کہ میں نے بچپن میں اپنے والد کا ایک جارحانہ اور سخت پہلو بھی دیکھا تھا، تاہم دنیا کے لیے وہ ایک دوستانہ اور غیر معمولی شخصیت تھے جو بہت سے لوگوں کا خیال رکھتے تھے۔
جگن کاظم نے اپنے بچپن کو بھی انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ والدہ کے ساتھ ہمیشہ ایک پیچیدہ تعلق رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتی ہوں کیونکہ انہوں نے مجھے جنم دیا، میں بچپن میں انتہائی شرارتی، ضدی اور باغی مزاج کی بچی تھی۔
جگن کاظم کے مطابق میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتی تھی، ان کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرتی تھی اور وہ تمام سرگرمیاں کرتی تھی جو عام طور پر لڑکوں سے منسوب کی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آج بھی میں دوستی یا رشتوں میں جنس کی بنیاد پر فرق نہیں کرتی، انسان اور اس کے ساتھ تعلق زیادہ اہم ہے۔
اداکارہ نے بتایا کہ تقریباً 17 سال کی عمر میں زندگی کے تجربات کی وجہ سے مجھ میں کچھ پختگی آئی، تاہم اس سے پہلے میں انتہائی مشکل اور باغی بچی تھی اور والدہ کی جانب سے دی جانے والی بیشتر ہدایات کو مسترد کر دیا کرتی تھی۔
جگن کاظم نے اپنے والدین کی طلاق کو بھی اپنے مشکل رویے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا اور بتایا کہ میں باری باری اپنے والدین کے گھروں میں رہا کرتی تھی، جبکہ میرے والد بہت غصے والے اور سخت مزاج تھے۔
اداکارہ نے بتایا کہ والد گھر میں سب کو مارتے تھے اور ان کا پرتشدد رویہ والدین کی علیحدگی کی وجوہات میں شامل تھا۔
جگن کاظم نے کہا کہ والد قدامت پسند اور سخت مزاج شخصیت تھے، تاہم میں بچپن میں خود بھی یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ مجھے کس طرح خود کو دیکھنا چاہیے، مجھے لڑکوں کی سرگرمیاں پسند تھیں اور میں لاہور میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میں بچپن میں اپنی اس منفرد شخصیت کی وجہ سے کافی مشہور بھی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ زندگی کے تجربات نے مجھے بدلنے اور اپنے آپ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی۔
