مریم نواز کی امریکی وفد کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت،7.1 ارب ڈالر کے منصوبے پیش
(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے امریکہ سے آئے ہوئے اعلیٰ سطحی کاروباری وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کا پنجاب آنا سرمایہ کاروں کے بحال شدہ اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے پاکستان کا اہم اقتصادی شراکت دار رہا ہے اور اب پاک۔امریکہ تعلقات کو سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، جدت اور نجی شعبے کے تعاون کے ذریعے نئی بلندیوں تک لے جانا ہوگا۔
مریم نواز نے کہا کہ بارشوں کی وجہ سے تاریخی شہر لاہور ان دنوں انتہائی خوبصورت نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ سے صحت، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس ملاقات کے انعقاد پر ایس آئی ایف سی کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ ملاقات مثبت نتائج لائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب ملک کی معاشی ترقی کا انجن ہے، جو قومی جی ڈی پی میں 55.7 فیصد، زرعی پیداوار میں 57.5 فیصد، مینوفیکچرنگ میں 48 فیصد اور سروسز سیکٹر میں 57.4 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب تقریباً 13 کروڑ آبادی کا صوبہ ہے، جہاں 65 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے، جو ایک متحرک، ہنر مند اور محنتی ورک فورس فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 20 اسپیشل اکنامک زونز اور دو ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز قائم ہیں، جبکہ سرمایہ کاروں کو "ون گورنمنٹ، ون ونڈو" سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ چیف منسٹرز گلوبل انویسٹمنٹ گیٹ وے سرمایہ کاری کو مزید آسان بنائے گا، جبکہ ایس آئی ایف سی وفاقی سطح پر معاملات کو فاسٹ ٹریک کرتی ہے اور وزیراعلیٰ آفس صوبائی محکموں سے بروقت کام مکمل کراتا ہے تاکہ بیوروکریٹک تاخیر اور سرخ فیتے کا خاتمہ ہو۔
مریم نواز نے کہا کہ اسپیشل اکنامک زونز میں 10 سالہ انکم ٹیکس چھوٹ، درآمد شدہ کیپیٹل گڈز پر ایک بار کی ڈیوٹی چھوٹ، رعایتی لیز، طویل مدتی زمین، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے 20 فیصد سبسڈائزڈ لیز ریٹس اور برآمدی، ان سورسنگ اور گرین پروڈکشن کمپنیوں کے لیے اضافی مراعات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 15 سے زائد لائسنسنگ اداروں کو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لایا جا رہا ہے، جس سے تعمیل کے اخراجات 40 سے 60 فیصد تک کم ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی "زیرو ٹائم ٹو اسٹارٹ" پالیسی کے تحت سرمایہ کار کاروبار فوری شروع کر سکتے ہیں، جبکہ این او سیز اور دیگر اجازت نامے بعد میں مکمل کیے جا سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے متعدد منصوبے تیار ہیں، جن میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کا 46 کلومیٹر طویل اور ایک لاکھ 40 ہزار ایکڑ پر مشتمل منصوبہ، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے 620 ملین ڈالر مالیت کے منصوبے، نواز شریف میڈیکل سٹی، ایگرو پروسیسنگ پارکس، بیماریوں سے پاک فیڈ لاٹس، ایک لاکھ ایکڑ پر ان لینڈ شرمپ فارمنگ، الیکٹرک موبلٹی پروگرام، 1500 ای بسیں اور ای ٹیکسیاں، "اپنی چھت اپنا گھر" کے تحت پانچ لاکھ سستے رہائشی یونٹس اور "ستھرا پنجاب" کے ذریعے جدید ویسٹ مینجمنٹ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے "پیوٹ" کے نام سے تین سالہ معاشی تبدیلی پروگرام تیار کیا ہے، جس میں صنعتی ترقی، زراعت، لائیو اسٹاک، ایکوا کلچر، سیاحت، مہارتوں اور آئی ٹی کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت آم، مالٹے، آلو، بیف، پولٹری، جھینگا فارمنگ، ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیوٹیکلز اور کھیلوں کی صنعت میں ویلیو ایڈیشن پر کام کیا جا رہا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ آئندہ تین برسوں میں مجموعی طور پر 7.1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک کی جائے گی، جس میں 3.9 ارب ڈالر سرکاری اور 3.2 ارب ڈالر نجی شعبے کی سرمایہ کاری شامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو معاشی ترقی کی نئی منزلوں تک لے جانے کے لیے ٹیکنالوجی ناگزیر ہے اور حکومت امریکی شراکت داروں کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور فنی تعاون کی خواہاں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس تیار کر رہا ہے، جن میں 40 فیصد خواتین شامل ہوں گی۔ اس پروگرام سے 1200 اسٹارٹ اپس، 32 ہزار انٹرنز اور مجموعی طور پر 60 لاکھ افراد مستفید ہوں گے، جن کی آمدنی میں واضح اضافہ ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور میں قائم نواز شریف آئی ٹی سٹی پاکستان کی پہلی آئی ٹی سٹی ہے، جو 800 ایکڑ پر مشتمل اور 10 سال کے لیے ٹیکس فری ہب ہوگی، جبکہ آفس آف اے آئی پنجاب گورننس، صحت اور زراعت میں مصنوعی ذہانت کا روڈ میپ پیش کرے گا۔ انہوں نے امریکی شراکت داروں کو پنجاب اسٹارٹ اپ فنڈ میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب معدنی وسائل سے مالا مال ہے، جہاں 250 ملین ٹن لوہے کی دھات، دنیا کا دوسرا بڑا پنک سالٹ ذخیرہ، پانچوں دریاؤں میں پلیسر گولڈ، چنیوٹ میں 262 ملین ٹن خام لوہا اور 37 ملین ٹن تانبا موجود ہے، جبکہ 900 ملین ڈالر کے آئرن پلانٹ، 1.27 ارب ڈالر کی اسٹیل مل اور اٹک میں 4 ارب ڈالر مالیت کے پلیسر گولڈ کے منصوبے سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش مواقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب سرمایہ کاری کے لیے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، حکومت پنجاب ہر منصوبے پر بلا تاخیر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
