(لاہور نیوز) انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب عبدالکریم نے 9 اور 10 محرم الحرام کے موقع پر صوبہ بھر میں سکیورٹی مزید سخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ عزاداری جلوسوں اور مجالس کے پرامن انعقاد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق عاشورہ محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں ایک لاکھ 52 ہزار سے زائد افسران و اہلکار سکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ 9 محرم الحرام کے موقع پر لاہور سمیت پورے صوبے میں 70 ہزار سے زائد افسران اور اہلکار تعینات ہیں۔
ترجمان کے مطابق آج صوبہ بھر میں 1697 عزاداری جلوس برآمد ہوں گے اور 3869 مجالس منعقد کی جائیں گی۔ ان میں اے کیٹیگری کے 208 عزاداری جلوس اور 337 مجالس شامل ہیں۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں 81 عزاداری جلوس برآمد ہوں گے جبکہ 386 مجالس منعقد کی جا رہی ہیں۔ لاہور میں اے کیٹیگری کے 26 عزاداری جلوس اور 46 مجالس شامل ہیں۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے ہدایت کی ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور دفعہ 144 پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی لیڈرز، ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے تعاون سے 9 محرم کا پرامن انعقاد یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے علما کرام اور کمیونٹی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ بین المسالک ہم آہنگی، رواداری اور برداشت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔
آئی جی پنجاب کے مطابق آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور ٹریفک افسران سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ محکمہ داخلہ، سیف سٹیز اتھارٹی اور تمام اضلاع میں قائم کنٹرول رومز سے سکیورٹی انتظامات کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمروں، واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز اور دیگر جدید آلات کے ذریعے چیکنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ عزاداری جلوسوں کے روٹس پر واقع عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کیے گئے ہیں جبکہ جلوسوں کے ساتھ سادہ لباس میں کمانڈوز بھی موجود ہیں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ صوبائی وزراء، علماء کرام، آرمڈ فورسز، رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بزرگ شہریوں، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ ڈبل سواری پر پابندی برقرار رہے گی۔
