اپ ڈیٹس
  • 204.00 انڈے فی درجن
  • 285.00 زندہ مرغی
  • 413.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.17 قیمت فروخت : 41.24
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.20 قیمت فروخت : 278.70
  • یورو قیمت خرید: 322.85 قیمت فروخت : 323.43
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 374.01 قیمت فروخت : 374.68
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 197.03 قیمت فروخت : 197.38
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 199.22 قیمت فروخت : 199.58
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.13 قیمت فروخت : 74.26
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.75 قیمت فروخت : 75.88
  • کویتی دینار قیمت خرید: 906.48 قیمت فروخت : 908.11
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 430100 دس گرام : 368800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 394255 دس گرام : 338064
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6767 دس گرام : 5808
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تفریح

تیزاب گردی پر خلیل الرحمان قمر کا نامناسب بیان،حنا پرویز بٹ کا سخت ردعمل

16 Jun 2026
16 Jun 2026

(ویب ڈیسک)پنجاب اسمبلی کی رکن اور خواتین تحفظ اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کے تیزاب گردی سے متعلق ریمارکس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بیانات خواتین پر تشدد کے خلاف جاری جدوجہد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

حنا پرویز بٹ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ تیزاب گردی کے متاثرین صرف جسمانی نہیں بلکہ زندگی بھر کے ذہنی اور سماجی صدمے کا سامنا کرتے ہیں، اس لیے اس نوعیت کے جرائم کو ہلکے انداز میں پیش کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق معاشرے میں ایسے رویے متاثرین کے لیے انصاف کے راستے مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔

ٹی وی پروگرام کے دوران ہونے والی گفتگو میں جب تیزاب حملوں کا ذکر کیا گیا تو خلیل الرحمان قمر نے کہا تھا کہ یوں بات کی جا رہی ہے جیسے ’’مرد اپنی جیبوں میں تیزاب کی بوتلیں لے کر چلتے ہیں۔‘‘ اس جملے پر حنا پرویز بٹ نے وہیں موقع پر بھی اعتراض کیا اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی اس موقف کو دہرایا۔

اپنے سوشل میڈیا بیان میں انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی سوچ معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کو معمولی بنانے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کے درد کو سمجھنے کے بجائے اسے طنز یا عمومی بحث میں بدل دینا انتہائی غیر ذمے دارانہ رویہ ہے۔

حنا پرویز بٹ نے مزید کہا کہ تیزاب گردی جیسے واقعات محض نظریاتی یا مباحثی موضوع نہیں بلکہ ایک تلخ سماجی حقیقت ہیں، جن کے لیے سخت قانون سازی، بہتر عملدرآمد اور اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے