(لاہور نیوز) انتظامیہ نے محرم الحرام اور صفر المظفر کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے 58 مذہبی رہنماؤں کی تقاریر پر 60 روزہ پابندی عائد کر دی۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری کئے گئے حکم نامے کے مطابق شعلہ بیان اور فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کے خدشات کے پیش نظر متعدد خطیبوں اور مذہبی شخصیات کو عوامی اجتماعات میں خطاب کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی محرم الحرام 2026 کے آغاز سے نافذ العمل ہو گی اور آئندہ 60 روز تک برقرار رہے گی، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات اور بین المذاہب ہم آہنگی کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔
سرکاری فہرست میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء شامل ہیں جن میں دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث اور اہلِ تشیع مسالک کے 58 مذہبی رہنما شامل ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق یہ نوٹیفکیشن ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت جاری کیا گیا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
