اپ ڈیٹس
  • 200.00 انڈے فی درجن
  • 271.00 زندہ مرغی
  • 392.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.06 قیمت فروخت : 41.13
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.25 قیمت فروخت : 278.75
  • یورو قیمت خرید: 321.33 قیمت فروخت : 321.91
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 372.46 قیمت فروخت : 373.13
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.39 قیمت فروخت : 195.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 199.49 قیمت فروخت : 199.85
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.11 قیمت فروخت : 74.24
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.76 قیمت فروخت : 75.90
  • کویتی دینار قیمت خرید: 905.76 قیمت فروخت : 907.39
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 430100 دس گرام : 368800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 394255 دس گرام : 338064
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6767 دس گرام : 5808
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
شہرکی خبریں

آئی ایم ایف نہیں، ہماری اپنی پالیسیاں اصل مسئلہ ہیں: شاہد خاقان عباسی

14 Jun 2026
14 Jun 2026

(لاہورنیوز) کنونیئر عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نہیں، ہماری اپنی پالیسیاں اصل مسئلہ ہیں، حکومت وسائل سے زیادہ اخراجات کر رہی ہے۔

 

پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کا بجٹ بے معنی ہو کر رہ گیا، گزشتہ چار سال پاکستان کی معیشت کیلئے بدترین ثابت ہوئے، حکومت نے بجٹ میں ریلیف نہیں دیا، صرف کچھ پرانے ٹیکس واپس لیے ہیں، نئے بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ہر پاکستانی کو برداشت کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی معاملات تشویشناک شکل اختیار کر چکے ہیں، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے، قرض بڑھ رہا ہے مگر معاشی اصلاحات نظر نہیں آ رہیں، سود کی ادائیگیاں ملکی معیشت پر سب سے بڑا بوجھ بن چکی ہیں، معاشی کمزوری قومی سلامتی کو بھی متاثر کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نہیں، ہماری اپنی پالیسیاں اصل مسئلہ ہیں، حکومت وسائل سے زیادہ اخراجات کر رہی ہے، رواں سال حکومت اخراجات کیسے پورے کرے گی، وسائل سے زیادہ خرچ کرنے پر اضافی ٹیکس لگانا پڑتا ہے، عوام پر مزید ٹیکس لگانا مسائل کا حل نہیں، قومی وسائل کے ضیاع کو روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

شاہد خان عباسی نے کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے، موجودہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا، وفاقی حکومت کا حجم مزید بڑھتا جا رہا ہے۔

کنونیئر عوام پاکستان پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ قرض، مہنگائی اور ٹیکسوں کے چکر سے نکلنا ہوگا، جس ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوتا، وہاں سرمایہ کاری بھی نہیں آتی، جو ملک اصلاحات کی بات نہ کرے وہ کیسے چلے گا؟

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے