(ویب ڈیسک) فلم ساز اور اداکار شمعون عباسی نے کراچی کی مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کی زندگی پر مبنی مجوزہ ڈراما سیریل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کہانی ٹی وی سکرین کے لیے موزوں نہیں۔
شمعون عباسی نے پیر کے روز فیس بک پر جاری اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ آخر ایسی کہانی کو ڈرامائی تشیکل دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے، جبکہ خواتین کی جدوجہد، کامیابی اور حوصلہ افزائی پر مبنی کئی مثبت کہانیاں موجود ہیں جنہیں ٹی وی پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے ان اطلاعات پر بھی ردعمل دیا اور کہا کہ اداکارہ صبا قمر کو اس منصوبے میں مرکزی کردار کے لیے منتخب کیا جا رہا ہے، جبکہ صبا قمر اپنی شاندار اداکاری کے باعث اس کردار کو اس انداز سے نبھا سکتی ہیں کہ ناظرین کردار سے متاثر ہو جائیں۔
انہوں نے صبا قمر کے سابقہ ڈرامے کیس نمبر 9 کو ایک بہترین ڈراما قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کیے اور ہراسانی جیسے حساس مسئلے پر شعور اجاگر کیا۔
شمعون عباسی نے سوال کیا کہ جب ایک اداکارہ اتنے مثبت اور مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے تو پھر اسے ایک منفی کردار کو مقبول بنانے کے لیے کیوں استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس کہانی کو بیان کرنا ہی مقصود ہے تو اسے فلم کی صورت میں پیش کیا جانا چاہیے کیونکہ سنیما دیکھنے کا انتخاب ناظرین اپنی مرضی سے کرتے ہیں، جبکہ ٹی وی ڈرامے گھروں میں ہر عمر کے افراد خصوصاً نوجوان لڑکیوں کی دسترس میں ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی مجرم کی کہانی کو گھر گھر پہنچانا ایک حساس معاملہ ہے اور اس میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔
شمعون عباسی نے اس منصوبے کو وائرل ہونے والے ایک واقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصوبے کے پس پردہ موجود افراد کو جانتے ہیں تاہم سچ بولنے سے انہیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔
واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق سیونتھ سکائی پروڈکشنز کراچی کی مبینہ ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کی زندگی پر مبنی بایوگرافیکل ڈرامہ تیار کر رہی ہے، جس کا سکرپٹ مبینہ طور پر کیس نمبر 9 کے مصنف شاہ زیب خانزادہ تحریر کریں گے۔
پاکستان میں حقیقی جرائم پر مبنی تفریحی مواد ماضی میں بھی تنازع کا باعث بنتا رہا ہے، چند برس قبل فلم ’جاوید اقبال، دی اَن ٹولڈ سٹوری آف اے سیریل کلر‘ کو سنیما گھروں میں نمائش کی اجازت نہیں دی گئی تھی، تاہم یہ فلم بعد میں یوٹیوب پر ریلیز کی گئی۔
