اوورسیز پاکستانیوں کی پراپرٹیز سے متعلق کیسز اسپیشل کورٹس سنیں گی، لاہور ہائیکورٹ
(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق مقدمات کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی پراپرٹی سے متعلق تمام مقدمات اب سول کورٹس نہیں بلکہ اوورسیز ایکٹ کے تحت قائم اسپیشل کورٹس میں سنے جائیں گے۔
جسٹس انوار حسین نے محمد اقبال مدثر سمیت دیگر درخواستوں پر 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے اسپیشل کورٹس کی جانب سے اوورسیز مقدمات نہ سننے کے اعتراض کو کالعدم قرار دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسپیشل کورٹ کا اختیار صرف قبضہ اور ملکیت کے تنازعات تک محدود نہیں بلکہ وراثت، پارٹیشن، انتقال، پاور آف اٹارنی، منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے متعلق تمام مقدمات بھی اسپیشل کورٹ میں سنے جائیں گے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر دونوں فریقین میں سے ایک بھی اوورسیز پاکستانی ہو تو مقدمہ اسپیشل کورٹ میں چلے گا، عدالت کے مطابق اوورسیز پراپرٹی ایکٹ کا بنیادی مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں کا تحفظ اور انہیں فوری و مؤثر انصاف فراہم کرنا ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سول کورٹس اور اسپیشل کورٹس نے قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے صرف بعض مقدمات منتقل کئے، جبکہ قانون کے مطابق تمام متعلقہ مقدمات اسپیشل کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، مقدمات کو مختلف عدالتوں کے درمیان “پنگ پونگ” نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ سول کورٹس سے منتقل ہونے والے مقدمات اسپیشل کورٹس میں اسی مرحلے سے چلائے جائیں گے جہاں وہ پہلے زیر سماعت تھے، اور اوورسیز پاکستانیوں کو مقدمات دوبارہ دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
فیصلے کے مطابق قانون کے نفاذ کے بعد زیر التوا تمام متعلقہ مقدمات خودکار طور پر اسپیشل کورٹس منتقل تصور ہوں گے۔
عدالت نے پنجاب بھر کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے رجسٹرار کو فیصلے کی نقول ارسال کرنے کا حکم بھی دے دیا۔
