(لاہور نیوز) پنجاب میں ٹریفک قوانین سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جہاں صوبائی موٹر وہیکل بل 2026ء کی منظوری کے بعد سخت سزاؤں میں نمایاں نرمی کر دی گئی ہے۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کے دستخط کے بعد نیا قانون نافذ ہو گیا، اس کے ساتھ ہی پراونشل موٹر وہیکل آرڈیننس 2025ء منسوخ کر دیا گیا۔
نئے قانون کے تحت مختلف ٹریفک خلاف ورزیوں پر عائد بھاری جرمانوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے اور بیشتر معاملات میں قید کی سزائیں مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔
لائسنس کی خلاف ورزی پر پہلے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے جرمانہ اور قید کی سزا تھی جسے کم کر کے صرف 5 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، قید کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ون وے کی خلاف ورزی پر پہلے 50 ہزار روپے جرمانہ یا 6 ماہ قید کی سزا تھی، جو اب کم ہو کر صرف 5 ہزار روپے جرمانہ رہ گئی ہے۔
نئے بل کے مطابق غلط سمت میں گاڑی چلانے، ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے، عمر کی حد کی خلاف ورزی اور بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے جیسے جرائم پر بھی قید کی سزائیں ختم کر دی گئی ہیں اور جرمانے کم کر دیے گئے ہیں، عمر کی حد کی خلاف ورزی پر جرمانہ 50 ہزار سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر پہلے 6 ماہ قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ تھا، جسے کم کر کے صرف 5 ہزار روپے کر دیا گیا ہے اور گاڑی کو انسپیکشن اسٹیشن تک لے جانے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
پبلک سروس گاڑیوں میں گنجائش سے زائد مسافر بٹھانے پر پہلے 6 ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانہ تھا، جسے کم کر کے اب 5 ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے، یہ جرمانہ چھت پر سوار یا گاڑی کے اطراف لٹکنے والے مسافروں پر بھی لاگو ہو گا۔
