پنجاب بھر میں انسدادِ سموگ آپریشن جاری، فصلوں کی باقیات جلانے پر لاکھوں روپے جرمانے
(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر میں انسدادِ سموگ آپریشن جاری ہے، لاہور کے ہائی اے کیو آئی والے علاقوں میں سموگ گنز کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ اور اہم شاہراہوں کی صفائی کی جا رہی ہے، جبکہ متعلقہ محکموں کے افسران 24 گھنٹے فیلڈ میں متحرک ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق پنجاب میں دھان کی فصل کے 63 لاکھ 32 ہزار 311 ایکڑ زیرِ کاشت رقبے میں سے 24 لاکھ 91 ہزار 916 ایکڑ پر کٹائی مکمل ہو چکی ہے، جو مجموعی رقبے کا 39.35 فیصد ہے۔ فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے 10 ہزار سپر سیڈرز فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ 187 بیلرز کے ذریعے ایک لاکھ 23 ہزار 217 ایکڑ رقبے سے باقیات کی گانٹھیں بنانے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
دھان کی کٹائی کے لیے ایک ہزار 259 کیوباٹا مشینیں کام کر رہی ہیں، جن کے ذریعے اب تک 4 لاکھ 87 ہزار 539 ایکڑ رقبے پر کٹائی مکمل کی گئی ہے۔ فصلوں کی باقیات جلانے پر اب تک 4 لاکھ 98 ہزار 712 وارننگ نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فصلوں کی باقیات جلانے کے 86 شواہد رپورٹ ہوئے، جن پر 46 ایف آئی آرز یا استغاثے درج کیے گئے اور 7 لاکھ 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ سپارکو کے فراہم کردہ 74 شواہد پر 40 ایف آئی آرز درج کرکے 6 لاکھ 15 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا، جبکہ موٹروے حکام کے 12 شواہد پر 6 ایف آئی آرز درج اور 90 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
انسدادِ سموگ آگاہی مہم کے تحت رضاکار کمیٹیوں کے ذریعے 2 لاکھ 80 ہزار 917 کسانوں سے رابطہ کیا گیا، جبکہ 22 ہزار 282 تربیتی پروگراموں سے 4 لاکھ 94 ہزار 221 کسان مستفید ہوئے۔ مراکز کی سطح پر 572 اجتماعات اور سیمینار بھی منعقد کیے گئے، جن میں 28 ہزار 487 کسانوں نے شرکت کی۔
دوسری جانب گزشتہ 24 گھنٹوں میں 284 صنعتی یونٹس اور 439 اینٹوں کے بھٹوں کا معائنہ کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران 25 یونٹس اور بھٹے مسمار کیے گئے، پانچ بھٹوں، پلاسٹک کے آٹھ مقامات اور تین کمرشل ککنگ پوائنٹس کو سیل کیا گیا، جبکہ 607 کلوگرام غیر معیاری پلاسٹک ضبط کیا گیا۔ بھٹوں پر 19 لاکھ روپے اور صنعتی یونٹس پر 14 لاکھ 60 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ مزید برآں، 66 کمرشل ککنگ پوائنٹس پر سکشن ہڈز نصب کیے گئے ہیں۔
مریم اورنگزیب کے مطابق سموگ پر قابو پانے کے لیے ڈرون، نائٹ اور ہاک آئی اسکواڈز کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سموگ کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ کسانوں اور عوام کا تعاون بھی ضروری ہے، فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے جدید زرعی مشینری استعمال کی جائے تاکہ صاف اور صحت مند پنجاب کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
