(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کیلئے دائر آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کیلئے 12 نومبر کو طلب کر لیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ علایا سلیم کی درخواست پر سماعت کی، اس موقع پر درخواست گزار کی وکیل شیزا قریشی نے دلائل پیش کئے۔
درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما کو شدید متاثر کر رہا ہے، اس لئے کم عمر بچوں کو اس کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کیلئے مؤثر قانونی اقدامات ضروری ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ متعدد ترقی یافتہ ممالک کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے یا اس پر پابندی عائد کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آسٹریلیا نے دسمبر 2025 میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی، جبکہ فرانس، ناروے، ملائیشیا اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں بھی اس حوالے سے قانون سازی کی جا رہی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) میں ترمیم کرکے بچوں کی عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام قائم کرنے کا حکم دیا جائے، تاکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو روکا جا سکے۔
درخواست میں ڈراموں اور اشتہارات میں ناشائستہ مناظر اور الکوحل کے استعمال کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کرنے کی بھی استدعا کی گئی، مزید برآں عدالت سے بچوں کو آن لائن استحصال، نامناسب مواد اور نفسیاتی نقصانات سے محفوظ رکھنے کیلئے مؤثر اقدامات کا حکم دینے کی درخواست کی گئی، سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ تمام محکمے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔
عدالت نے آئینی درخواست پر مزید معاونت کیلئے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو 12 نومبر کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
