لاہورہائیکورٹ: جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کیخلاف سیلز ٹیکس آڈٹ کے نوٹسز کالعدم قرار
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کے خلاف سیلز ٹیکس آڈٹ کے لیے جاری کیے گئے دونوں نوٹسز کالعدم قرار دیتے ہوئے سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت آڈٹ کے قانونی طریقہ کار سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس جواد حسن اور جسٹس عابد حسین چٹھہ پر مشتمل بینچ نے 17 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ کمشنر ان لینڈ ریونیو آڈٹ شروع کرنے سے پہلے قانون کے مطابق ٹیکس ریکارڈ طلب کرنے کا پابند ہے اور آڈٹ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانونی طریقہ کار اور تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ریکارڈ طلب کرنے سے پہلے ہی آڈٹ کے لیے انتخاب کا نوٹس جاری کرنا قانونی طریقہ کار کے منافی ہے۔ سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 25 کی ذیلی دفعات (1) اور (2) کو الگ الگ نہیں پڑھا جا سکتا، کیونکہ ریکارڈ طلب کرنے اور آڈٹ کرنے کے اختیارات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آڈٹ شروع کرنے کے بعد ریکارڈ طلب کرکے قانونی تقاضے پورے کرنے کا تاثر نہیں دیا جا سکتا۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو کو ٹیکس دہندہ کو آڈٹ کے لیے منتخب کرنے کی وجوہات بھی واضح کرنا ہوں گی۔
عدالت نے قرار دیا کہ قانون میں استعمال ہونے والی عبارت ’’جب اور جہاں ضرورت ہو‘‘ کمشنر کو غیر محدود اختیارات نہیں دیتی، بلکہ ٹیکس دہندہ کو آڈٹ کے لیے منتخب کرنے کے لیے حقیقی ضرورت اور قانونی جواز ہونا ضروری ہے۔ محض ریکارڈ طلب کرکے غیر ضروری چھان بین یا آڈٹ شروع کرنا بھی قانون کے منافی ہو سکتا ہے۔
درخواست گزار جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے ٹیکس سال 2016 کے تمام 12 ٹیکس ادوار کے سیلز ٹیکس گوشوارے مقررہ مدت میں جمع کرائے تھے۔ کمپنی کے مطابق اس نے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 91 فیصد زیادہ سیلز ٹیکس بھی ادا کیا تھا۔
جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے 3 اور 6 مارچ 2017 کو جاری کیے گئے آڈٹ نوٹسز کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
عدالت نے کمپنی کی درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں آڈٹ نوٹسز کالعدم قرار دے دیے۔
