(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے آئل مل ڈی سیل کرنے سے متعلق مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مجسٹریٹ کو پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے عائد پابندی ختم کرنے یا آئل مل ڈی سیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
جسٹس غلام سرور نہنگ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی درخواست پر 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر معیاری یا مضرِ صحت تیل کے باعث آئل مل پر عائد پابندی برقرار رہے گی، جبکہ فوڈ بزنس کو ڈی سیل کرنے کا قانونی اختیار ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کے پاس ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ فوڈ اتھارٹی کے انتظامی احکامات منسوخ کرنا مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ فوجداری مقدمے کی سماعت الگ معاملہ ہے، اس لیے مجسٹریٹ کو ریگولیٹری احکامات کالعدم قرار دینے کا اختیار حاصل نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ ہنگامی پابندی کے خلاف ریلیف حاصل کرنے کے لیے متاثرہ فریق فوڈ اتھارٹی سے رجوع کرے۔ مالی مشکلات یا کسی قسم کی سختی قانون سے ہٹ کر کسی اتھارٹی کو اختیارات نہیں دے سکتی، کیونکہ عدالتیں اور سرکاری افسران صرف قانون کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
