اپ ڈیٹس
  • 236.00 انڈے فی درجن
  • 368.00 زندہ مرغی
  • 533.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.15 قیمت فروخت : 41.23
  • یورو قیمت خرید: 321.38 قیمت فروخت : 321.96
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 375.67 قیمت فروخت : 376.35
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 196.26 قیمت فروخت : 196.61
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.26 قیمت فروخت : 196.61
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.93 قیمت فروخت : 74.07
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.56 قیمت فروخت : 75.70
  • کویتی دینار قیمت خرید: 903.61 قیمت فروخت : 905.24
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار

20 Aug 2026
20 Aug 2026

(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی بیوروکریسی سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کے بغیر ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار دے دیا، جسٹس ملک اویس خالد نے قرار دیا کہ پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ میں برطرفی بطور سزا شامل نہیں، اس لئے اس قانون کے تحت ملازم کو ’’برطرف‘‘ کرنے کا حکم قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک محمد اویس خالد نے درخواست گزار شفیق خوشنود کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا، درخواست گزار لاہور جنرل ہسپتال میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر مستقل بنیادوں پر تعینات تھا، اس کے خلاف الزام عائد کیا گیا کہ اسے یکم مئی 2024 کو رات تقریباً ساڑھے چار بجے ہسپتال کے آرتھو وارڈ میں اے سی کے پائپ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، جبکہ دوسرا الزام یہ تھا کہ وہ 15 جون سے 22 جولائی 2024 تک ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا۔

محکمے  نے 15 جولائی 2024 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، تاہم باقاعدہ انکوائری کو ختم کرتے ہوئے صرف شوکاز نوٹس کی بنیاد پر 24 جولائی 2024 کو ملازمت سے برطرف کر دیا، درخواست گزار کی محکمانہ اپیل بھی مسترد ہوئی، جبکہ پنجاب سروس ٹربیونل نے بھی درخواست کو نامناسب فورم قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا، جس کے بعد معاملہ لاہور ہائیکورٹ پہنچا۔

دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چوہدری اویس احمد قاضی اور لیگل ایڈوائزر فیصل نواز پیش ہوئے، سرکاری فریق  نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات قانون کے مطابق اور قابلِ جواز وجوہات کی بنیاد پر جاری کئے گئے ہیں۔

جسٹس ملک اویس خالد نے فیصلے میں لکھا کہ شوکاز نوٹس میں باقاعدہ انکوائری نہ کرانے کی کوئی مضبوط، معقول اور قابلِ جواز وجہ درج نہیں کی گئی تھی، متعلقہ اتھارٹی نے صرف یہ رائے ظاہر کی کہ انکوائری کی ضرورت نہیں، لیکن کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی گئی۔

فیصلے کے مطابق یہ معاملہ محض کسی تسلیم شدہ دستاویز کا نہیں تھا بلکہ حقائق متنازع تھے، درخواست گزار  نے چوری کے الزام سے انکار کیا تھا اور بتایا تھا کہ سکیورٹی سپروائزر  نے اسے آرتھو وارڈ کی طرف اے سی پائپ کاٹنے کی اطلاع دی، جس پر وہ موقع پر گیا لیکن وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا، اسی طرح درخواست گزار  نے غیر حاضری کے الزام سے بھی انکار کیا اور جون اور جولائی 2024 کا حاضری رجسٹر عدالت میں پیش کیا، جس میں بیشتر دنوں میں اس کی حاضری ظاہر ہو رہی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر الزام متنازع حقائق پر مبنی ہو اور اسے ثابت کرنے کیلئے شہادت، گواہوں اور جرح کی ضرورت ہو تو ملازم کو باقاعدہ انکوائری کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملازم کو اپنے دفاع میں ثبوت پیش کرنے، گواہ بلانے اور مخالف گواہوں پر جرح کرنے کا مناسب موقع دینا قدرتی انصاف اور آئینی تقاضا ہے، خاص طور پر جب محکمہ کسی ملازم پر بڑی سزا عائد کرنا چاہتا ہو تو محض شوکاز نوٹس کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر کیس میں شوکاز نوٹس کے بعد لازماً مکمل انکوائری ضروری نہیں، لیکن اگر محکمہ انکوائری سے استثنا حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے تحریری طور پر قابلِ جواز وجوہات بیان کرنا ہوں گی، اگر الزام متنازع حقائق پر مبنی ہو اور معاملہ شہادت اور جرح کے بغیر حل نہ ہو سکتا ہو تو باقاعدہ انکوائری کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اس کیس کا ایک انتہائی اہم قانونی پہلو یہ تھا کہ محکمہ  نے کارروائی پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ کے تحت شروع کی، لیکن آخر میں ملازم کو برطرف کر دیا گیا۔

عدالت نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ چونکہ پیڈا ایکٹ کے تحت ’برطرفی سزا کے طور پر شامل ہی نہیں، اس لئے اس قانون کے تحت ملازم کو نوکری سے برطرف کرنے کی سزا دینا قانونی اختیار سے باہر ہے، عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ قدرتی انصاف کے اصولوں کے تحت کسی شخص کو الزام ثابت کئے بغیر اور دفاع کا مکمل موقع دیئے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی۔

فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 4 اور 10-A قانون کے مطابق برتاؤ، منصفانہ کارروائی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی برطرفی کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے تاہم محکمہ کو یہ اختیار دیا کہ وہ درخواست گزار کیخلاف عائد الزامات کی بابت قانون کے مطابق باقاعدہ انکوائری کر سکتا ہے، عدالت نے متعلقہ اتھارٹی کو درخواست گزار کی مراعات کے معاملے کا فیصلہ بھی کرنے کی ہدایت کی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے