موسمیاتی تبدیلی سب سے بڑا عالمی چیلنج، مؤثر کلائمیٹ گورننس ناگزیر ہے: مصدق ملک
(لاہور نیوز) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج ہے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اس کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی موسمیاتی بحران میں ان کا کردار نہایت کم ہے۔
سول سروسز اکیڈمی لاہور میں 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی انصاف، مالی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی کی منصفانہ منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک موسمیاتی آفت چند دنوں میں کئی دہائیوں کی ترقی اور محنت کو تباہ کر سکتی ہے، اس لیے موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ انسانی ترقی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ گزشتہ چار بڑے سیلابوں میں تقریباً 6 ہزار افراد جاں بحق جبکہ 4 کروڑ افراد متاثر ہوئے، جس سے قومی سطح پر مؤثر کلائمیٹ گورننس اور ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سستی اور محفوظ رہائش ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ماحول دوست شہری ترقی میں غریب اور کم آمدنی والے طبقات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مستقبل کے سول سرونٹس پر زور دیا کہ وہ پالیسی سازی میں موسمیاتی تبدیلی کو بنیادی عنصر کے طور پر شامل کریں۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور اختراع ہی معاشی ترقی کی بنیاد ہیں، جبکہ پائیدار معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق وزارتِ موسمیاتی تبدیلی عالمی موسمیاتی سفارت کاری میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی کر رہی ہے اور توانائی پالیسی میں توازن اور انصاف کو یقینی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہی خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قدرتی وسائل کا تحفظ، شفاف طرزِ حکمرانی اور مؤثر کلائمیٹ گورننس پاکستان کے محفوظ اور پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں۔
