اپ ڈیٹس
  • 204.00 انڈے فی درجن
  • 285.00 زندہ مرغی
  • 413.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.17 قیمت فروخت : 41.24
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.20 قیمت فروخت : 278.70
  • یورو قیمت خرید: 322.85 قیمت فروخت : 323.43
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 374.01 قیمت فروخت : 374.68
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 197.03 قیمت فروخت : 197.38
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 199.22 قیمت فروخت : 199.58
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.13 قیمت فروخت : 74.26
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.75 قیمت فروخت : 75.88
  • کویتی دینار قیمت خرید: 906.48 قیمت فروخت : 908.11
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 430100 دس گرام : 368800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 394255 دس گرام : 338064
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6767 دس گرام : 5808
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
شہرکی خبریں

پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 ٹرینوں کے ٹھیکے دیئے جا سکے

17 Jun 2026
17 Jun 2026

(لاہور نیوز) پاکستان ریلوے کی جانب سے 15 مسافر ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کیلئے منعقدہ اوپن آکشن میں صرف 5 ٹرینوں کے ٹھیکے دیئے جا سکے، جبکہ 10 ٹرینوں کیلئے کوئی بڈ موصول نہ ہونے پر ان کی آؤٹ سورسنگ مؤخر کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق 5 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ سے پاکستان ریلوے کو مجموعی طور پر 10 ارب 78 کروڑ 23 لاکھ روپے کی آمدن حاصل ہوئی، نجی شعبے کے سپرد کی جانے والی ٹرینوں میں عوام ایکسپریس، ملت ایکسپریس، قراقرم ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس اور نارووال پسنجر شامل ہیں۔

آکشن کے نتائج کے مطابق عوام ایکسپریس 3 ارب 56 کروڑ روپے، قراقرم ایکسپریس 3 ارب 90 کروڑ 15 لاکھ روپے، ملت ایکسپریس 2 ارب 77 کروڑ 28 لاکھ روپے، میانوالی ایکسپریس 40 کروڑ 10 لاکھ روپے جبکہ نارووال پسنجر 14 کروڑ 70 لاکھ روپے میں نیلام ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے نے 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کیلئے مجموعی طور پر 25 ارب 3 لاکھ روپے کا بنچ مارک مقرر کیا تھا، تاہم 10 ٹرینوں کیلئے کوئی بڈ موصول نہ ہو سکی، مقرر کردہ بنچ مارک نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث کئی کمپنیاں بڈز جمع کرانے سے گریزاں رہیں۔

جن ٹرینوں کیلئے بڈز موصول نہ ہو سکیں ان میں ہزارہ ایکسپریس، فرید ایکسپریس، کراچی ایکسپریس، راوی ایکسپریس، بہاؤالدین زکریا ایکسپریس، لاثانی ایکسپریس، تھل ایکسپریس، سکھر ایکسپریس، سیالکوٹ ایکسپریس اور فیض احمد فیض ایکسپریس شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق آکشن میں بڈز نہ ملنے کے باعث 10 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کا عمل فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے، جبکہ آئندہ مرحلے میں ریلوے انتظامیہ بنچ مارک اور شرائط کا ازسرنو جائزہ لینے پر غور کرے گی۔

ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے آمدن میں اضافہ اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا مقصود تھا، تاہم 15 میں سے صرف 5 ٹرینوں کے ٹھیکے ملنے سے متوقع آمدن میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔

دوسری جانب ترجمان پاکستان ریلوے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بنچ مارک جان بوجھ کر زیادہ رکھا گیا تھا تاکہ ریلوے کیلئے زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کی جا سکے، پانچ ٹرینوں کی آکشن بہترین ریٹس پر مکمل کی گئی اور ریلوے نے اپنے مالی اہداف کے مطابق مناسب آمدن حاصل کی، نجی کمپنیوں کی کوشش تھی کہ انہیں کم نرخوں پر ٹرینوں کی کمرشل مینجمنٹ حاصل ہو، تاہم ریلوے نے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے بہترین ممکنہ نتائج حاصل کئے ہیں۔

ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کی حتمی منظوری ریلوے انتظامیہ کی جانب سے دی جائے گی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے