(لاہور نیوز) 3ستمبر 2012کو صحافت کے اُفق پر جگمگانے والا روزنامہ دنیا 7سال کا ہوگیا۔ اپنے سات سالہ سفر کے دوران اِس موقرروزنامے نے جو شاندار کامیابیاں سمیٹیں ، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ بہترین ٹیم اور جدیدٹیکنالوجی کے استعمال سے روزنامہ دنیا دیگر جرائد کو کہیں پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ ٹویٹر اور ویب سائٹ کے ذریعے بھی قارئین کا کثیر تعداد میں روزنامہ دنیا تک رسائی حاصل کرنا، اِس کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ سے بیک وقت شائع ہونے والا، روزنامہ دنیا عوام کو ہرمعاملے سے باخبر رکھنے میں پیش پیش رہا تو اِن کے مسائل کواقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے میں بھی اِس نے اپنا بھرپورکردار ادا کیا۔
بات اہل سیاست کی ہویا پھر معیشت کی،خبر بیوروکریسی کی ہو یا معیشت کی، شوبز کی چکاچوند دنیا کا میدان ہو یا پھر کھیل کا، روزنامہ دنیا نے عوام کو ہر معاملے سے ہمیشہ باخبر رکھا۔ اِس کی یہی خصوصیت اِسے دوسرے اخبارات سے ممتاز بناتی ہے۔
نذیر ناجی،مجیب الرحمن شامی، ایاز میر، روف کلاسرا،سہیل احمد قیصر، طارق حبیب، خورشید ندیم اور دیگر تجزیہ کاروں کے تجزیوں اور تحریروں کی عوام میں مقبولیت ، اِن کے غیرجانبدار اور بے لاگ ہونے کاواضح ثبوت ہے۔ بہترین لکھنے والوں کی تحریروں کے باعث روزنامہ دنیا کے ادارتی صفحات کی مقبولیت کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
