(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے قرار دیا ہے کہ خصوصی ٹریبونل کے بروقت قیام میں حکومتی تاخیر کی بنیاد پر کسی شہری کا قانونی حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ہتک عزت کا دعویٰ مدتِ میعاد گزرنے کی بنیاد پر خارج کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ متعلقہ ٹریبونل کو بھجوا دیا۔
جسٹس مرزا وقاص رؤف اور جسٹس انوار حسین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محمد فاروق ملک کی اپیل منظور کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ اپیل میں ڈیفیمیشن ٹریبونل راولپنڈی کے 13 جنوری 2026 کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت ہتک عزت کا دعویٰ مدتِ میعاد گزرنے کی بنیاد پر خارج کردیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق اپیل کنندہ کو اپریل 2025 میں مبینہ ہتک عزت کا علم ہوا۔ اس وقت پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 نافذ ہوچکا تھا، تاہم ہتک عزت کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی ٹریبونلز قائم نہیں کیے گئے تھے۔ اپیل کنندہ نے 28 جولائی 2025 کو ہرجانے کی وصولی کے لیے سول عدالت سے رجوع کیا۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے 22 ستمبر 2025 کو نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈیفیمیشن ٹریبونلز قائم کیے اور ان کے علاقائی دائرہ اختیار کا تعین کیا۔ بعد ازاں سول عدالت نے 6 نومبر 2025 کو دعویٰ مجاز فورم سے رجوع کرنے کے لیے واپس کردیا، جس کے بعد اپیل کنندہ نے مصدقہ نقل حاصل کرکے 13 نومبر 2025 کو متعلقہ ٹریبونل میں دعویٰ دائر کردیا۔ تاہم ٹریبونل نے دعویٰ مدتِ میعاد گزرنے کی بنیاد پر خارج کردیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ جب اپیل کنندہ نے اپنے حق کے تحفظ کے لیے سول عدالت سے رجوع کیا تو اس وقت قانون کے تحت مجاز خصوصی ٹریبونل موجود نہیں تھا۔ ٹریبونل کے قیام کے بعد بھی اپیل کنندہ نے بلاوجہ تاخیر کیے بغیر متعلقہ فورم سے رجوع کیا، اس لیے محض اس بنیاد پر دعویٰ خارج کرنا درست نہیں کہ خصوصی ٹریبونل میں درخواست مقررہ مدت کے بعد دائر ہوئی۔
عدالت نے مزید کہا کہ آئین شہریوں کو انصاف تک رسائی، منصفانہ سماعت اور قانونی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ریاست کسی شہری کو قانونی حق دے لیکن اس کے نفاذ کے لیے ضروری خصوصی فورم بروقت قائم نہ کرے تو انتظامی تاخیر کا نقصان شہری کو نہیں پہنچایا جا سکتا، خصوصاً جب وہ مقررہ مدت کے اندر دستیاب عدالتی فورم سے رجوع کرچکا ہو۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اس اصول کا مقصد قانون میں مقررہ مدتِ میعاد ختم کرنا نہیں بلکہ ان غیر معمولی حالات کا جائزہ لینا ہے جن میں قانونی طور پر مجاز خصوصی فورم دستیاب نہ ہو۔ عدالت کے مطابق کسی شخص سے ایسے طریقہ کار پر عمل کرنے کا تقاضا نہیں کیا جاسکتا جس پر عمل کرنا اس وقت ممکن ہی نہ ہو۔
عدالت نے محمد فاروق ملک کی اپیل منظور کرتے ہوئے ڈیفیمیشن ٹریبونل کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور معاملہ دوبارہ ٹریبونل کو بھجوا دیا تاکہ ہتک عزت کے دعوے کا فیصلہ قانون کے مطابق میرٹ پر کیا جاسکے۔
