(لاہور نیوز) پنجاب میں آب پاک اتھارٹی کو صاف پانی اتھارٹی میں تبدیل کرنے کے معاملے پر مبینہ بے ضابطگیوں کی انکوائریاں ٹھپ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ماضی میں پنجاب آب پاک اتھارٹی میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے باوجود ادارے کی تبدیلی کے بعد متعدد معاملات کی تحقیقات متاثر ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آب پاک اتھارٹی کے دور میں صوبے بھر میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے 536 آر او پلانٹس کی خریداری اور تنصیب میں مبینہ طور پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ آڈیٹر جنرل نے پلانٹس کی تنصیب اور ادائیگیوں کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے۔
آڈٹ اعتراضات کے مطابق آر او پلانٹس کی خریداری کے معاہدے میں فری ڈلیوری، تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز شامل تھیں، جبکہ پلانٹس کی تنصیب کے بعد چھ ماہ تک تکنیکی سروس فراہم کرنا بھی کمپنی کی ذمہ داری تھی۔
ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر پراجیکٹ کی جانب سے صوبے کے مختلف شہروں میں 536 آر او پلانٹس نصب کروائے گئے، تاہم مبینہ طور پر ٹیکسز اور دیگر چارجز کو پلانٹس کی اصل لاگت سے الگ کر دیا گیا۔ آڈٹ میں انکشاف ہوا کہ پلانٹس کی لاگت کے ساتھ ٹھیکیدار کا 20 فیصد منافع بھی شامل کیا گیا۔
آڈٹ اعتراضات کے مطابق مقررہ نرخوں کے بجائے آر او پلانٹس کی خریداری کے باعث فی پلانٹ 2 لاکھ 37 ہزار 400 روپے اضافی ادا کیے گئے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو مجموعی طور پر 12 کروڑ 72 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کرنا پڑی۔
دوسری جانب اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آڈٹ کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں جمع کروا دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق جمع کروائے گئے جواب میں تمام تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں۔
