لاہور ہائیکورٹ: غیرت کے نام پر قتل میں راضی نامہ مسترد ، ضمانت کی درخواستیں خارج
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے فریقین کے درمیان راضی نامہ مسترد کر دیا اور ملزمان محمد ناصر اور پرویز کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ غیرت کے نام پر قتل ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے، لہٰذا فریقین کے درمیان سمجھوتہ یا راضی نامہ ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا۔
مقدمے کے مطابق ملزمان پر 18 سالہ نجماں مائی کو غیرت کے نام پر فائرنگ کرکے قتل کرنے کا الزام ہے۔
جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے فیصلے میں قرار دیا کہ قانون کسی شخص کو غیرت کے نام پر کسی دوسرے کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ نہ ملکی قانون اور نہ ہی مذہب نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کو جائز قرار دیتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ غیرت کے نام پر قتل آئین کے آرٹیکل 9 میں دیے گئے حقِ زندگی اور آزادی کے منافی ہے، جبکہ بنیادی حقوق سے متصادم کوئی رسم یا رواج آئین کے آرٹیکل 8 کی روشنی میں قابلِ قبول نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں فریقین کا سمجھوتہ بھی ملزمان کو ضمانت کا حق نہیں دیتا۔ مدعی اور گواہوں کی جانب سے سابقہ بیانات سے منحرف ہونے کے حلف نامے بھی ضمانت کے لیے کافی نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 311 کے تحت غیرت کے نام پر قتل ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے، اس لیے محض صلح یا راضی نامے کی بنیاد پر ملزمان کو قانونی ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی رسم، رواج یا نام نہاد غیرت کو انسانی جان لینے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
