(لاہور نیوز) شہر میں سُتھرا پنجاب پروگرام اور ایل ڈبلیو ایم سی کی ہیوی ویسٹ مینجمنٹ گاڑیوں کے باعث بڑھتے ٹریفک حادثات پر ٹریفک پولیس نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روڈ سیفٹی اقدامات مزید سخت کرنے کی سفارش کی ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور نے اس حوالے سے سُتھرا پنجاب اتھارٹی کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں ہیوی ویسٹ مینجمنٹ گاڑیوں کی نقل و حرکت، ڈرائیورز کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
مراسلے کے مطابق 2025-26 کے دوران سُتھرا پنجاب اور ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑیوں سے پیش آنے والے 4 ٹریفک حادثات میں 10 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان حادثات کے پیش نظر سی ٹی او نے سفارش کی ہے کہ ہیوی ویسٹ مینجمنٹ گاڑیوں کی پیک آورز کے دوران شہر کی مصروف شاہراہوں پر آمدورفت پر پابندی عائد کی جائے۔
ٹریفک پولیس نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ شہر کی بڑی شاہراہوں پر صفائی آپریشن کو رات 11 بجے سے صبح 7 بجے تک محدود رکھا جائے تاکہ رش کے اوقات میں ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور حادثات کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ غفلت یا لاپروائی کے مرتکب ڈرائیورز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، ان کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے اور روڈ سیفٹی سے متعلق باقاعدہ تربیت کا نظام بھی مؤثر بنایا جائے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب سی ٹی او لاہور کے احکامات پر ٹریفک حادثات میں ملوث 68 ڈرائیورز کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد شہر میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور سڑکوں پر محفوظ ڈرائیونگ کو فروغ دینا ہے۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق ہر مہلک اور شدید غیر مہلک ٹریفک حادثے کی صورت میں متعلقہ ڈرائیور کا ڈرائیونگ لائسنس فوری طور پر معطل کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ معطل شدہ لائسنس رکھنے والا کوئی بھی شخص اگر دوبارہ گاڑی چلاتا پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم نے کہا کہ غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ پر متعلقہ ڈرائیور کا لائسنس کم از کم ایک سال کے لیے معطل رہے گا، جبکہ مہلک حادثات کے ذمہ دار افراد کو لائسنس کی معطلی کے ساتھ ساتھ قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
