لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، فیصلے کے مطابق عدالت نے برادری کی بنیاد پر خاتون امیدوار کے نمبر کم کرنے کا اقدام غیر قانونی قرار دے دیا۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر لودھراں اور بورڈ آف ریونیو کا خاتون کو نمبردار مقرر نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کو عوامی عہدوں میں برابر مواقع دینا آئینی تقاضا ہے، قابل خواتین کو سماجی تعصب کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، تحصیل دنیاپور ضلع لودھراں میں مستقل نمبردار کے انتقال کے بعد عہدہ خالی ہوا۔
تحریری فیصلہ میں بتایا گیا کہ نمبردار کے انتقال کے بعد درخواست گزار نے مستقل نمبردار بننے کیلئے درخواست جمع کرائی، درخواست گزار کے مطابق اسے برداری کے نام پر زیرو نمبر دے کر میرٹ سے باہر کیا گیا، ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کے والد اسی گاؤں کے مستقل نمبردار رہے تھے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر والد نمبردار رہ سکتے تھے تو بیٹی کو برادری کی بنیاد پر نااہل نہیں قرار دیا جا سکتا، اسسٹنٹ کمشنر نے ازسرنو جائزے کے بعد درخواست گزار کو میرٹ پر پہلے نمبر پر رکھا تھا، ڈپٹی کمشنر نے بعد ازاں سب برادری کو بنیاد بنا کر درخواست گزار کے نمبر کم کر دیئے، درخواست گزار کلثوم اختر نے مستقل نمبردار نہ بنائے جانے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ درخواست گزار کو دیہی معاملات، ریونیو امور اور عوامی رابطے کا وسیع تجربہ حاصل تھا، نمبردار کی تقرری کسی کا پیدائشی حق نہیں بلکہ عوامی ذمہ داری ہے، انتظامی اختیارات من مانے انداز میں استعمال نہیں کئے جا سکتے۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ بورڈ آف ریونیو قانونی تضادات اور میرٹ کا درست جائزہ لینے میں ناکام رہا، عدالت نے محمد اعظم کی بطور مستقل نمبردار تقرری کالعدم قرار دے دی، عدالت نے کلثوم اختر کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم دے دیا، متعلقہ ریونیو حکام کو 30 روز میں تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔
