(لاہور نیوز) شہر میں بڑھتی ہوئی سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے پیش نظر سی ٹی او لاہور نے سرکل افسران کے ساتھ اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں آلودگی کی وجوہات اور ان کے فوری حل کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بغیر ترپال ڈھانپے ریت، مٹی اور بھوسہ لے جانے والی گاڑیوں کا شہر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہوگا۔ اس حوالے سے سخت کارروائی کے لیے شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کی جائے گی۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے ہدایت کی کہ صرف وہی گاڑیاں شہر میں داخل ہو سکیں گی جن کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس، فٹنس سرٹیفکیٹ اور مکمل کورڈ باڈی ہوگی۔ انسانی صحت کے پیش نظر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی سخت کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
مزید برآں، باڈی سے باہر سامان، سریا، ٹی آئرن اور دیگر آہنی اشیاء لوڈ کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سرکل افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہر کے کنجیشن پوائنٹس کی نشاندہی کر کے مربوط ٹریفک پلان تشکیل دیں۔
سی ٹی او نے واضح کیا کہ مقررہ وقت سے پہلے کوئی بھی ہیوی ٹریفک شہر میں داخل نہیں ہو سکے گی، جبکہ ڈی ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں کریک ڈاؤن کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی کسی بھی گاڑی کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
لاہور میں بڑھتی ہوئی سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے پیش نظر سی ٹی او لاہور نے سرکل افسران کے ساتھ اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں آلودگی کی وجوہات اور ان کے فوری حل کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بغیر ترپال ڈھانپے ریت، مٹی اور بھوسہ لے جانے والی گاڑیوں کا شہر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہوگا۔ اس حوالے سے سخت کارروائی کے لیے شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کی جائے گی۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے ہدایت کی کہ صرف وہی گاڑیاں شہر میں داخل ہو سکیں گی جن کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس، فٹنس سرٹیفکیٹ اور مکمل کورڈ باڈی ہوگی۔ انسانی صحت کے پیش نظر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی سخت کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں، باڈی سے باہر سامان، سریا، ٹی آئرن اور دیگر آہنی اشیاء لوڈ کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سرکل افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہر کے کنجیشن پوائنٹس کی نشاندہی کر کے مربوط ٹریفک پلان تشکیل دیں۔
سی ٹی او نے واضح کیا کہ مقررہ وقت سے پہلے کوئی بھی ہیوی ٹریفک شہر میں داخل نہیں ہو سکے گی، جبکہ ڈی ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں کریک ڈاؤن کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی کسی بھی گاڑی کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
