(لاہور نیوز) واسا لاہور اور والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے درمیان تاریخی سٹیم پمپ ہاؤس کے تحفظ، بحالی اور دوبارہ استعمال کے لیے 10 سالہ معاہدہ طے پانے کے باوجود برطانوی دور کی اس تاریخی عمارت کی بحالی کا منصوبہ تاحال خاطر خواہ پیش رفت نہ کر سکا۔
23 فروری 2026 کو طے پانے والے معاہدے کے تحت بادامی باغ میں واقع تاریخی پمپ ہاؤس کو اس کی اصل تاریخی حیثیت میں بحال کرنے اور اسے میوزیم، نمائشی مرکز یا ثقافتی مقام کے طور پر استعمال میں لانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم معاہدے کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس منصوبے پر عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
معاہدے کے مطابق تاریخی عمارت کی تعمیراتی و ساختی بحالی، تحفظ اور طویل المدتی دیکھ بھال کے لیے مربوط حکمت عملی ترتیب دی جانی تھی، جبکہ والڈ سٹی اتھارٹی کو پمپ ہاؤس کا آپریشنل کنٹرول منتقل کرنے کے لیے قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ تاریخی عمارت کی ملکیت واسا لاہور کے پاس برقرار رہے گی، جبکہ بحالی کے تمام کام متعلقہ ماہرین کی نگرانی میں انجام دیے جائیں گے تاکہ عمارت کی تاریخی و تعمیراتی اہمیت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
منصوبے کا ایک اہم پہلو تاریخی پمپ ہاؤس اور اس سے منسلک پانی کے تالاب کے درمیان تاریخی اور عملی تعلق کو برقرار رکھنا بھی تھا، تاہم اس حوالے سے بھی تاحال نمایاں عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
تاریخی ورثے کے تحفظ کے اس منصوبے کا مقصد نہ صرف برطانوی دور کی اہم عمارت کو محفوظ بنانا تھا بلکہ اسے شہریوں اور سیاحوں کے لیے ایک ثقافتی و تاریخی مقام میں تبدیل کرنا بھی تھا۔ تاہم معاہدے کے باوجود بحالی کا کام آگے نہ بڑھنے سے اس تاریخی عمارت کے مستقبل اور منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
