اپ ڈیٹس
  • 264.00 انڈے فی درجن
  • 378.00 زندہ مرغی
  • 548.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.39 قیمت فروخت : 41.46
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.10 قیمت فروخت : 277.60
  • یورو قیمت خرید: 317.94 قیمت فروخت : 318.52
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 197.38 قیمت فروخت : 197.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 197.54 قیمت فروخت : 197.90
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.76 قیمت فروخت : 1.76
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.77 قیمت فروخت : 73.90
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.45 قیمت فروخت : 75.59
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار

پنجاب اسمبلی کو مصنوعی ذہانت سے منسلک کرنے کا منصوبہ ، اے آئی چیٹ بوٹ تیار

14 Oct 2026
14 Oct 2026

(لاہور نیوز) پنجاب اسمبلی کو مصنوعی ذہانت سے منسلک کرنے کے منصوبے پر عملی پیشرفت شروع ہوگئی، اسمبلی کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے اے آئی چیٹ بوٹ تیار کرلیا، تیار کردہ چیٹ بوٹ کو اسمبلی میں نصب ٹیبلٹس سے منسلک کرنے کا کام جلد شروع ہوگا۔

اسمبلی ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کے لیے مخصوص مصنوعی ذہانت کا نظام تشکیل دینے پر بھی مشاورت جاری ہے۔ مجوزہ اے آئی نظام صرف اسمبلی کے ریسرچ، قانون سازی اور پارلیمانی امور کے لیے استعمال ہوگا، جبکہ اس نظام تک بیرونی افراد کی رسائی نہیں ہوگی۔ مخصوص اے آئی نظام کی تشکیل کے لیے ضرورت پڑنے پر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی۔

پنجاب اسمبلی میں اے آئی پلیٹ فارم کے قیام کی ہدایت سپیکر ملک محمد احمد خان نے دی تھی۔ اس سلسلے میں سپیکر کی زیر صدارت مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق خصوصی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا تھا، جس میں پارلیمانی معلومات تک تیز، آسان اور محفوظ رسائی کے لیے اے آئی پلیٹ فارم قائم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اجلاس میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو پارلیمانی نظام کا مؤثر حصہ بنانے، اے آئی پلیٹ فارم کے لیے ضروری تکنیکی وسائل اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے اور ارکان اسمبلی سمیت اسمبلی اسٹاف کو مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کی تربیت دینے پر زور دیا گیا تھا۔

خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں اے آئی کے استعمال کے دوران معلومات کی درستگی، سیکیورٹی اور رازداری یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ قانون سازی، پارلیمانی تحقیق اور اسمبلی ریکارڈ تک رسائی کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کے محفوظ و ذمہ دارانہ استعمال کے لیے جامع گورننس فریم ورک تشکیل دینے پر بھی غور کیا گیا تھا۔

سیکرٹری جنرل پنجاب اسمبلی چوہدری عامر حبیب کے مطابق یہ اقدامات ای گورننس کے فروغ کی جانب پیشرفت ہیں۔ اسمبلی پہلے ہی پیپرلیس ہوچکی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ارکان اسمبلی کو مزید معاونت فراہم ہوگی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے