(لاہور نیوز) پنجاب میں رواں سال مون سون سیزن اختتام پذیر ہوگیا، صوبے کے بیشتر اضلاع میں ریکارڈ بارشیں ہوئیں، پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون سیزن کے دوران راولپنڈی میں سب سے زیادہ 1505 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق لاہور میں 1316، سیالکوٹ میں 1256 اور گوجرانوالہ میں 1161 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ جہلم میں 935، گجرات 865، منڈی بہاؤالدین 810، نارووال 786، مری 757، اٹک 749، وزیرآباد 741، منگلا 602، اوکاڑہ 576، سرگودھا 524 اور فیصل آباد میں 514 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
شیخوپورہ میں 422، چکوال 402، حافظ آباد 388، قصور 307، ننکانہ صاحب 293، بہاولنگر 276، نورپور تھل 265، میانوالی 247، خوشاب 236 اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 197 ملی میٹر مون سون بارش ریکارڈ ہوئی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق جھنگ، چنیوٹ، جوہرآباد، ساہیوال، پاکپتن، بہاولپور، خانیوال، ملتان، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، راجن پور اور وہاڑی میں بھی مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں پیشگی انتظامات اور ضروری مشینری کی دستیابی کے باعث ریکارڈ بارشوں کے باوجود کم سے کم وقت میں نکاسی آب یقینی بنائی گئی۔ رواں سال کسی بڑے دریا میں بڑے سیلاب کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق شیخوپورہ کے نالوں میں طغیانی کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔ نالہ بھیڈ اور ڈیک میں طغیانی کے باعث فیروز والا اور مریدکے کے 58 دیہات زیرِ آب آئے، جبکہ سیلاب سے 83 موضع جات اور 43 ہزار 188 ایکڑ رقبہ متاثر ہوا۔ مجموعی طور پر 1215 گھر بھی متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے تحت شیخوپورہ میں سیلاب سے متاثرہ فصلوں اور مکانات کے نقصانات کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ دریاؤں، ڈیمز اور بیراجز کی مسلسل نگرانی بھی جاری ہے، جبکہ پنجاب کے تمام دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 65 شہری جاں بحق اور 382 زخمی ہوئے، جبکہ 224 مکانات متاثر اور 21 مویشی ہلاک ہوئے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن مانیٹرنگ جاری ہے۔
