(ویب ڈیسک)یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے رہنما اور معروف صنعتکار ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 39.5 ارب ڈالر کی تشویشناک سطح پر پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ چار برس کی بلند ترین سطح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قرض یا ترسیلاتِ زر کے سہارے معاشی خودمختاری حاصل نہیں کی جا سکتی، بلکہ پائیدار معاشی استحکام صرف برآمدات میں اضافے سے ممکن ہے۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ توانائی کی بلند لاگت پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا رہی ہے، اس لیے حکومت فوری طور پر علاقائی ممالک کے برابر مسابقتی بجلی کا ٹیرف نافذ کرے تاکہ ملکی برآمدات کو فروغ مل سکے۔
انکا کہنا تھا کہ بلند شرح سود نے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے، صنعتکار مزید قرض لینے کے متحمل نہیں رہے، لہٰذا اسٹیٹ بینک کو پالیسی ریٹ میں کمی کرنی چاہیے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو سہارا مل سکے۔
ایس ایم تنویر نے وزیراعظم اور وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا کہ تجارتی خسارے پر قابو پانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے طویل المدتی اور مؤثر معاشی پالیسی اختیار کی جائے، جبکہ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے فوری اور جامع لائحہ عمل بھی مرتب کیا جائے۔
