اپ ڈیٹس
  • 200.00 انڈے فی درجن
  • 273.00 زندہ مرغی
  • 395.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.06 قیمت فروخت : 41.13
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.25 قیمت فروخت : 278.75
  • یورو قیمت خرید: 321.33 قیمت فروخت : 321.91
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 372.46 قیمت فروخت : 373.13
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.39 قیمت فروخت : 195.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 199.49 قیمت فروخت : 199.85
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.11 قیمت فروخت : 74.24
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.76 قیمت فروخت : 75.90
  • کویتی دینار قیمت خرید: 905.76 قیمت فروخت : 907.39
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 430100 دس گرام : 368800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 394255 دس گرام : 338064
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6767 دس گرام : 5808
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

سابق رجسٹرار ہائیکورٹ سے 4 لاکھ روپے ماہانہ الاؤنس کی ریکوری کیخلاف درخواست مسترد

12 Jun 2026
12 Jun 2026

لاہور: (محمد اشفاق ) لاہور ہائیکورٹ نے سابق رجسٹرار ہائیکورٹ سے 4 لاکھ روپے ماہانہ الاؤنس کی ریکوری کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ انتظامی کمیٹی کے فیصلے کے خلاف رٹ پٹیشن ناقابلِ سماعت ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے سابق ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی سید خورشید انور رضوی کی درخواست پر 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ عدالتِ عالیہ کا کوئی بھی انتظامی یا مشاورتی فیصلہ آئینی دائرہ اختیار کے تحت چیلنج نہیں کیا جا سکتا، فیصلے میں سپریم کورٹ کے نظائر پر انحصار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے خلاف اسی ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ رجسٹرار ہائیکورٹ کا عہدہ جوڈیشل سروس کا حصہ ہے اور الاؤنس کا معاملہ سروس میٹرز میں آتا ہے، اس لیے اس نوعیت کے تنازعات کے ازالے کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے فیصلے میں کہا کہ جوڈیشل افسران اپنی سروس سے متعلقہ شکایات کے ازالے کے لیے پنجاب سب آرڈینیٹ جوڈیشری سروس ٹریبونل سے رجوع کریں، عدالت نے واضح کیا کہ رجسٹرار ہائیکورٹ کا الاؤنس ختم ہونے کے بعد پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے سابق ڈی جی کے مساوی الاؤنس کا دعویٰ بھی برقرار نہیں رہتا، کیونکہ مذکورہ الاؤنس برابری کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق کسی دوسرے موزوں قانونی فورم یا ٹریبونل سے رجوع کر سکتے ہیں۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے