(لاہور نیوز) سموگ کے دوران شہر میں فلو، انفلوئنزا اور کورونا وائرس کی مختلف اقسام سے ملتی جلتی علامات کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور کے 6 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں 4 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے، جن میں بخار، کھانسی، نزلہ، گلے میں درد اور جسمانی درد جیسی علامات پائی گئیں۔
ذرائع کے مطابق میو ہسپتال میں 900 سے زائد مریض فلو، کورونا اور انفلوئنزا سے ملتی جلتی علامات کے ساتھ رپورٹ ہوئے، جبکہ جناح ہسپتال اور سروسز ہسپتال میں بھی 800، 800 سے زائد مریضوں کی آمد رپورٹ ہوئی۔ لاہور جنرل ہسپتال، سر گنگا رام ہسپتال اور چلڈرن ہسپتال میں بھی سیکڑوں مریضوں نے مختلف علامات کے باعث طبی امداد حاصل کی۔
ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اور فلو کی علامات میں مماثلت کے باعث صرف علامات کی بنیاد پر حتمی تشخیص کرنا مشکل ہے۔ اسی لیے فلو جیسی علامات والے بعض مریضوں میں کورونا وائرس کی موجودگی جانچنے کے لیے ریپڈ ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے، جس کے دوران کورونا کے مثبت کیسز سامنے آنے کی اطلاعات بھی ہیں۔
ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر سائرہ افضل کے مطابق کورونا وائرس کی بعض اقسام پہلے کے مقابلے میں کم شدت کی حامل ہو سکتی ہیں، تاہم علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کورونا، انفلوئنزا اور سموگ تینوں سانس کی بیماریوں سے متعلق علامات پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے مریضوں کو خود تشخیص کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
پروفیسر سائرہ افضل نے شہریوں کو موسمی انفلوئنزا ویکسین لگوانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فلو کی ویکسین بیماری کی شدت اور پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو کورونا اور فلو سے بچاؤ کے لیے خصوصی احتیاط کرنی چاہیے۔
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ رش والی جگہوں پر احتیاط کریں، ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھیں اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر دوسروں سے مناسب فاصلہ رکھیں۔
پروفیسر سائرہ افضل کے مطابق عالمی سطح پر انفلوئنزا وائرسز کی گردش جاری ہے، جن میں انفلوئنزا اے نمایاں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین اور موسمی فلو ویکسین ایک ہی دن بھی لگوائی جا سکتی ہیں، تاہم ویکسین کے حوالے سے انفرادی طبی مشورہ لینا مناسب ہے۔
