اپ ڈیٹس
  • 264.00 انڈے فی درجن
  • 363.00 زندہ مرغی
  • 526.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.39 قیمت فروخت : 41.46
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.10 قیمت فروخت : 277.60
  • یورو قیمت خرید: 317.94 قیمت فروخت : 318.52
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 197.38 قیمت فروخت : 197.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 197.54 قیمت فروخت : 197.90
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.76 قیمت فروخت : 1.76
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.77 قیمت فروخت : 73.90
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.45 قیمت فروخت : 75.59
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
صحت

ورلڈ بینک کے آٹھویں امدادی مشن کا نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ

16 Oct 2026
16 Oct 2026

(لاہور نیوز) نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام، پنجاب کے تحت صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ورلڈ بینک کے آٹھویں مشن کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں طبی عملے کی مہارتوں پر مبنی تربیت، ڈیجیٹل تربیتی نظام، مریضوں کے مربوط ریفرل نظام اور نومولود بچوں کی نگہداشت کی سہولیات سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد صوبے میں بنیادی سطح پر صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانا اور ضروری طبی خدمات کے معیار، تسلسل اور رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

اس موقع پر ورلڈ بینک کے  ریجنل پریکٹس منیجر شعبہ صحت  کے  ڈاکٹر شیرین ورکی  نے ورلڈ بینک کی جانب سے مشن کی قیادت کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی صحت اصلاحات اور بنیادی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے جاری اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے وژن، وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کی قیادت اور محکمہ صحت و آبادی کی سیکرٹری محترمہ نادیہ ساقب کی ادارہ جاتی قیادت اور نگرانی کو قابلِ ستائش قرار دیا۔

ڈاکٹر شیرین ورکی نے محکمہ صحت و آبادی کی ٹیم کی جانب سے حکومتی اصلاحاتی وژن کو عملی اقدامات میں ڈھالنے کی کوششوں اور نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام، پنجاب کی پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کی تکنیکی معاونت کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشترکہ کوششوں سے بنیادی سطح پر صحت کی بہتر سہولیات کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں مدد مل رہی ہے۔

پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت ورلڈ بینک کے ٹاسک ٹیم لیڈر اور سینئر ہیلتھ اکانومسٹ جہانزیب سہیل اور محکمہ صحت و آبادی کے ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمنسٹریشن) و پروگرام ڈائریکٹر، نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام، پنجاب محمد اشرف نے کی۔ اجلاس میں ورلڈ بینک، محکمہ صحت و آبادی، حکومتِ پنجاب اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور پروگرام پر عمل درآمد کی پیش رفت اور صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس کے دوران کیپٹن (ر) ڈاکٹر عثمان علی خان نے محکمہ صحت و آبادی کے لیے پروگرام کی معاونت اور اہم اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ طبی عملے کی مہارتوں پر مبنی تربیت اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل تھی۔ اس تربیتی طریقۂ کار کا مقصد طبی عملے کی عملی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور ضروری طبی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانا ہے، جس کے تحت متعلقہ فرائض اور طبی ماحول میں علم و مہارت کے مؤثر استعمال پر توجہ دی جاتی ہے۔

 شرکاء کو طبی عملے کی ڈیجیٹل تربیت کے لیے لرننگ مینجمنٹ سسٹم کی تیاری سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مجوزہ نظام کے ذریعے تربیتی مواد تک رسائی بڑھانے، پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے اور ٹیکنالوجی کی مدد سے مسلسل سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں مربوط ڈیجیٹل ریفرل مینجمنٹ سسٹم کی تیاری پر بھی غور کیا گیا، جس کے ذریعے بنیادی مراکزِ صحت کو ثانوی اور اعلیٰ سطح کے ہسپتالوں سے منسلک کیا جائے گا۔ اس نظام میں طبی طریقۂ کار اور معیاری ریفرل اصول شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ مریضوں کو بروقت اور مناسب طبی سہولیات تک پہنچانے، بالخصوص خصوصی یا ہنگامی علاج کے ضرورت مند مریضوں کے ریفرل کو مؤثر بنانے میں مدد مل سکے۔

الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ (ای ایم آر) میں ریفرل پروٹوکولز اور چیک لسٹس کے اندراج اور انہیں ہیلتھ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ایچ آئی ایم ایس) سے منسلک کرنے سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ اس اقدام کا مقصد ریفرل کے طریقۂ کار کو معیاری بنانا، مریضوں کو ایک مرکز سے دوسرے مرکز منتقل کرنے کے عمل میں رابطہ بہتر بنانا اور علاج کے تسلسل کو مضبوط کرنا ہے۔ اس سلسلے میں طبی عملے کی تربیت کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

مشن کے دوران دیہی مراکزِ صحت میں نومولود بچوں کی نگہداشت کے لیے لیول اوّل کی نرسریز پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ نرسریز بنیادی سطح پر نومولود بچوں کی بروقت طبی جانچ، ابتدائی نگہداشت اور حالت مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں، جبکہ مزید علاج کی ضرورت کی صورت میں بچوں کو اعلیٰ سطح کے مراکزِ صحت منتقل کیا جا سکتا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ نرسریز کے قیام سے پہلے اور بعد میں نومولود بچوں کی نگہداشت کے انتظامات کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا، جس کا مقصد آبادی کے قریب بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کرنا تھا۔ اس اقدام سے بالخصوص کم سہولیات والے علاقوں میں نومولود بچوں کی مناسب نگہداشت تک رسائی بہتر بنانے اور پیچیدگیوں کی صورت میں بروقت طبی انتظامات میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

مذکورہ اقدامات نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام، پنجاب کی ان وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد بنیادی مراکزِ صحت کی استعداد، طبی عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، ڈیجیٹل صحت کے نظام اور مریضوں کے مؤثر ریفرل کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانا ہے۔

اجلاس میں پیش کردہ پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ عمل درآمد کی ترجیحات اور آئندہ اقدامات کے لیے رابطہ کاری اور مسلسل پیروی کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ورلڈ بینک کی معاونت سے جاری نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کا مقصد بنیادی سطح پر ضروری طبی خدمات کی منصفانہ فراہمی اور معیار کو بہتر بنانا ہے، جس کے لیے صحت کی سہولیات کی تیاری، گورننس و جواب دہی، اور مالیاتی انتظام و عوامی مالیاتی نظام کی بہتری پر توجہ دی جا رہی ہے۔

اجلاس میں محکمہ صحت و آبادی کے ایڈیشنل سیکرٹری (اے اینڈ آر) عدنان شہزاد، ڈائریکٹر سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن پنجاب ڈاکٹر معیز منصور، پراجیکٹ ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر نوید اختر، پراجیکٹ ڈائریکٹر پی ایف ایف پی کیپٹن (ر) ڈاکٹر عثمان علی خان، ڈپٹی ڈائریکٹر ایچ آئی ایس ڈی یو خالد شریف، ٹی بی کنٹرول سے ڈاکٹر قاسم اور ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر پی ایم یو رائے فیصل رضا نے شرکت کی۔

ورلڈ بینک کے وفد میں صوبائی تکنیکی سربراہ ڈاکٹر علی مرزا، عابد علی خان، سعدیہ رزاق اور گلوبل فنانسنگ فیسلٹی سے وابستہ سینئر ہیلتھ سپیشلسٹ ڈاکٹر سپریا مادھون سمیت دیگر ارکان شامل تھے۔ اجلاس میں ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام، پنجاب کی پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر شہزاد سرور، فنانشل مینجمنٹ سپیشلسٹ عمید فیصل، کمیونیکیشن سپیشلسٹ کرامت علی، پروکیورمنٹ سپیشلسٹ عنایت شاہ، انوائرنمنٹل اینڈ سوشل سیف گارڈز سپیشلسٹ محترمہ یسریٰ نعیم، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفیسر محمد حسیب، فنانشل مینجمنٹ ایسوسی ایٹ مقبول حسین، پروگرام سپورٹ ایسوسی ایٹ عثمان علی اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ایسوسی ایٹ احمد صہیب نے شرکت کی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے